آسان طریقہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۸
آسان طریقہ
پروفیسر رشید احمد صدیقی ( ۱۹۷۷ - ۱۸۹۲) جون پور میں پیدا ہوئے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے صدر تھے۔ ان کی شہرت زیادہ مزاح نگار کی حیثیت سے ہوئی۔ مزاحیہ نگاری میں وہ اردو کے ممتاز لکھنے والوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ موصوف کے ایک رفیق آل احمد سرور نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ " پروفیسر رشید احمد صدیقی نے ایک دفعہ اپنا ایک مضمون مجھ سے لے کر کہیں اور شائع کر دیا۔ میں اسے ماہنامہ اردو ادب میں دینا چاہتا تھا۔ میں نے اس پر احتجاج کیا تو انہوں نے نوٹس نہ لیا۔ پھر میں نے فریاد کی تو محرم کا مہینہ اسی زمانہ میں گزر چکا تھا۔ رشید صاحب نے لکھا کہ محرم ختم ہو گیا ، ماتم موقوف کیجیے ۔ " ( قومی آواز ۲۲ اپریل ۱۹۹۰)
جواب کا یہ طریقہ بعض اوقات نہایت مفید ہوتا ہے۔ علمی تبادلہ خیال میں منطقی طریقہ ہی مناسب ہے۔ علمی گفتگو میں طنز و مزاح کے الفاظ بولنا ایک معیوب فعل سمجھا جاتا ہے ، مگر دوسرے بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں مذکورہ قسم کا ہلکا انداز زیادہ کارآمد ہے۔ خاص طور پر جب دو شخص یا دو گروہ میں تلخی کی صورت پیدا ہو جائے تو ایسے موقع پر سنجیدہ مزاح کا طریقہ ہی زیادہ مناسب ہے۔ تلخی اور کشیدگی کے وقت آدمی اس حالت میں نہیں ہوتا کہ وہ دلائل کی زبان کو سمجھے۔ ایسے وقت میں بہترین صورت یہی ہے کہ کوئی پر لطف جملہ بول کر ذہن کو ایک طرف سے دوسری طرف پھیر دیا جائے ۔
یہ اصول گھریلو سطح پر بھی کارآمد ہے ، اور جماعتی سطح پر بھی اور دو گروہوں کے باہمی نزاعات کے موقع پر بھی۔ آدمی اگر اپنے ہوش و حواس نہ کھوئے ، اور جھنجھلاہٹ سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے تو وہ ہر ایسے موقع پر کوئی دل چسپ بات پالے گا جس سے وہ لوگوں کی برہمی کو ٹھنڈا کر سکے ۔ مزاح کو اگر عادت کے طور پر اختیار کیا جائے تو وہ ایک معیوب بات ہے۔ لیکن مزاح کو اگر تدبیر کے طور پر اختیار کیا جائے تو وہ ایک پسندیدہ چیز بن جائے گی۔ کیوں کہ بعض اوقات مزاحیہ کلام وہ کہہ دیتا ہے جو سنجیدہ کلام نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues