Al-Risala · December 1990 · page 18

Pakistan's Father Teresa,

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۸

گاڑیوں کا دستہ ہے جو سب کی سب سائرن ، وائر لیس ، گیس سلنڈر وغیرہ سے لیس ہیں ۔ ان کے علاوہ انہوں نے دو ہیلی کاپٹر خریدے ہیں تاکہ دور تک کے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر سکیں ۔

اسی کے ساتھ انہوں نے اسپتال ، زچہ گھر ، یتیم خانے اور مختلف قسم کے رفاہی مراکز قائم کر رکھے ہیں ، اب انھوں نے گیارہ ایکڑ کی ایک زمین حاصل کی ہے ۔ یہاں وہ اپنے تمام شعبے قائم کریں گے ۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر ہیلی کاپٹر کو ٹھہرانے اور اتارنے کا میدان بھی بنایا جائے گا ۔

۳۰ سال پہلے عبدالستار ایدھی کی مفلسی کا یہ عالم تھا کہ ان کی ماں بیمار ہوئی تو نہ ان کے پاس دوالانے کے پیسے تھے اور نہ ماں کو اسپتال لے جانے کا سادھن ۔ ان کی ماں نہایت تکلیف کی حالت میں مرگئی ۔ مگر ماں کی موت نے ان کو ایک نئی زندگی دے دی۔ اس سے ان کو سخت جھٹکا لگا ۔ انہوں نے سوچا کہ اسی طرح کتنے غریب ہوں گے جو تکلیف میں تڑپتے ہوں گے ، مگر کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا ۔

انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے خدمت خلق کا ایک ادارہ قائم کریں گے ۔ ۳۰ سال پہلے یہ ادارہ انہوں نے نہایت معمولی حالت سے شروع کیا تھا ۔ آج وہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس کا سالانہ بجٹ بارہ کروڑ روپیہ ہے ۔ جس شخص کا حال یہ تھا کہ مرض الموت میں مبتلا اپنی ماں کی دوا خریدنے کے لیے اس کے پاس پیسے نہ تھے ، وہ آج اپنے مرکز میں ۷۵ ، ۷ آدمیوں کے لیے کھانا اور کپڑا فراہم کر رہا ہے ۔

عبدالستار ایدھی کو عالمی انعام (Magsayay Award) دیا گیا ہے ۔ امریکہ کے کثیرالاشاعت ماہنامہ ریڈرس ڈائجسٹ ( جون ۱۹۸۹ء) نے ان کے بارہ میں ایک تعریفی مضمون شائع کیا تھا جس کا خلاصہ الرسالہ ( فروری ۱۹۹۰ء) میں آچکا ہے ۔ نئی دہلی کے انڈیا ٹوڈے (۳۰ جون ۱۹۹۰ء) نے سات صفحہ کی ایک با تصویر رپورٹ شائع کی ہے ۔ ان کا عنوان یہ ہے پاکستان کا فادر ٹریسا :

Pakistan's Father Teresa,

‹ Previous page Next page › Contents of December 1990 All issues

Printed page