Al-Risala · February 1990 · page 11

خدمت کا کرشمہ

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۱

عبدالستار ایدھی (عمر ۵۵ سال) ایک پاکستانی مہاجر ہیں۔ ۱۹۴۷ء میں وہ گجرات کو چھوڑ کر کراچی چلے گئے ۔ ابتدا ء انھوں نے کپڑے اور دوا کی دکان پر ملازمت کی ۔ ان پر کئی ایسے تجربے گزرے جب کہ ایک مریض یا حادثہ کا شکار آدمی کو اسپتال پہنچانے کے لیے فوری طور پرا یمبولینس کار کی ضرورت تھی۔ مگر وقت پر ایمبولینس نہ پہنچنے کی وجہ سے آدمی تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ ان کے دل میں آیا کہ وہ ایمبولنس سروس کا ایک رفاہی ادارہ قائم کریں گے ۔

۱۹۵۰ء میں انھوں نے عطیات کی رقم سے ایک سیکنڈ ہینڈ ٹرک خریدا اور اس کو ایک معمولی قسم کے ایمبولنس میں تبدیل کر کے مریضوں اور زخمیوں کی خدمت شروع کی ۔ یہ کام بڑھا ۔ یہاں تک کہ اب ان کے پاس ۲۴۵ ایمبولنس کا دستہ ہے۔ وہ کراچی کے اندر اور کراچی کے باہر غریبوں اور معذوروں کی مفت خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کا سماجی خدمت کا ادارہ ہر روز ہزاروں پاکستانیوں کی خدمت کرتا ہے ۔ ایمبولنس کے دستہ کے علاوہ ان کے تحت زچہ خانے ، بلڈ بینک ، اکسرے کلینک ، لیبارٹری، نرسنگ اسکول، یتیم خانے ، معذور خانے وغیرہ چل رہے ہیں۔ انھوں نے ایتھوپیا (۵۳ ہزار ڈالر) فلسطین (۶۶ ہزار ڈالر)، بنگلہ دیش (۱۰ ہزار ڈالر) اور اسی طرح بعض دوسرے ملکوں کے مصیبت زدگان کی خدمت کی ہے ۔ اب وہ ایر ایمبولنس سروس اور دوسرے بڑے بڑے ادارے قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ مثلاً جدید طرز کا اسپتال، حیوانات کا اسپتال وغیرہ۔ ان کا سالانہ بجٹ تقریباً ۱۰ کروڑ روپیہ ہے۔ اور یہ سب عوامی چندوں سے حاصل ہوتا ہے۔ سابق صدر ضیاء الحق نے ایک بار انھیں پانچ لاکھ روپیہ کا چیک بھیجا ۔ مگر عبدالستار ایدھی نے اس کو واپس کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کام عوام کے لیے ہے اور عوام ہی کو اس کی قیمت دینا چاہیے ۔ وہ نہایت سادہ طور پر دو کمروں کے ایک فلیٹ میں رہتے ہیں ۔ لوگوں کو ان کے اوپر اتنا زیادہ اعتماد ہے کہ بغیر طلب انھیں بڑی بڑی رقم دیتے رہتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے جو رقم ان کو دی جائے گی وہ ضرور صحیح طور پر استعمال ہوگی ۔

۱۹۸۶ میں ان کو خدمت خلق (Public Service) کے لیے (Ramon Magsaysay Award)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page