تعمیر سیاست
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۳
تعمیر سیاست
ابو علی محمد بن علی بن مقلہ ( ۳۲۸ - ۲۷۲ھ) نہایت اعلی صلاحیت والا آدمی تھا۔ اس نے اپنی غیر معمولی فن کارانہ صلاحیت سے قدیم دی عربسی خط (خط کوفی) میں مجتہدانہ اصلاحات کا فنیں۔ اور اس کو حسین اور جامع بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس نے عربی خط کو ابتدائی دور سے نکال کر تکمیلی دور میں پہنچادیا۔ فلپ کے ہٹی نے اپنی کتاب ہسٹری آف عرب میں اس کو عربی فن کتابت کا بانی (Founder of Arabic Calligraphy) کہا ہے (صفحہ ۴۶۸)
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے لکھا ہے کہ ابن مقلہ ۸۸۶ میں بغداد میں پیدا ہوا، اور ۹۴۰ء میں بغداد ہی میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ عباسی دور (۱۲۵۸ - ۷۵۰) کا ممتاز ترین خطاط تھا۔ اس نے عربی خط کو کوفی خط کے دور سے نکال کر نسخی خط کے دور میں پہنچایا۔ اس طرح اس نے عربی خط کو نیا حسن (Beauty) عطا کیا۔ (V/272)
ابن مقلہ ابتدا ئر بغداد میں عباسی حکومت کے ایک دفتر میں چودینہار ماہوار پر منشی تھا۔ پھر اس کی کمال اس کو خلیفہ کے دربار تک لے گیا۔ یہاں اس نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ مسلسل تین بادشاہوں کا وزیر بنتا رہا۔ اولاً مقتدر باللہ عباسی (۳۲۰ - ۲۸۲ھ) کا، پھر اس کے بھائی قاہر باللہ (۳۲۲ ۔ ھ) کا، اس کے بعد راضی باللہ (۳۲۹ - ۲۹۴ھ) کا۔
واضح ہو کہ وزیر "قدیم زمانے میں وزیر اعظم کے ہم معنی ہوتا تھا۔ کیونکہ بادشاہ کا صرف ایک وزیر ہوتا تھا اور اس کو سارے اختیارات حاصل ہوتے تھے۔ مقتدر باللہ کے ابتدائی زمانے میں حامد بن عباس وزیر تھا۔ اس کے ساتھ اس نے علی بن عیسی الجراح کو نائب وزیر بنایا تو لوگوں کو سخت تعجب ہوا۔ ایک شاعر کی نظم کا ایک شعر یہ ہے :
اعجب من كل ما رأينا ان وزيرين في بلاد
سب سے عجیب بات جو ہم نے دیکھی وہ یہ کہ ایک ملک میں دو وزیر ہیں ابن مقلہ کے یہ مناصب اس کے فن کی ترقی میں بے حد مددگار ثابت ہو سکتے تھے۔ اگر ان ملے ہوئے مواقع کو وہ فن تحریر اور اس سلسلے کی دوسری چیزوں کی ترقی اور تحقیق میں لگاتا تو نہ صرف یہ کہ عربی رسم الخط
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues