Al-Risala · February 1990 · page 15

لیس بعد الیمین لذۃ عیش یا حیاتی بانت یمینی فبینی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۱۵

عزائم میں تبدیل ہو گئے ۔ خاموش خدمت میں مشغول رہنے کے بجائے اب وہ خفیہ قسم کی سیاسی اور فوجی تحریکوں کا لیڈر بن گیا۔ اب اس نے چاہا کہ حکومت کے نظام میں اپنے مفید مطلب انقلاب لائے۔ اس نے ایک خفیہ منصوبے کے تحت یہ کوشش شروع کر دی کہ خلیفہ قاہر باللہ کو تخت سے اتار کر ابو احمد بن مکتفی کو عباسی سلطنت کا تاج پہنایا جائے ۔

کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے (حبک الشیئ یعمی ویصم) ابن مقلہ بھی اپنی ساری ذہانت کے باوجود اسی کمزوری کا شکار ہوا۔ وہ اپنے حالات کا اور اس کے مقابلے میں خلیفہ کی طاقت کا صحیح اندازہ نہ کر سکا ۔ چنانچہ راز کھل گیا ۔ ابن مقلہ پر یہ الزام لگا کہ اس نے فوجی سردار مونس خادم کے ساتھ مل کر قاہر باللہ کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کی تھی ۔

سازش کے انکشاف کے بعد ابن مقلہ کا گھر جلوا دیا گیا ۔ ابو احمد بن مکتفی کو دیوار میں چن دیا گیا۔ تاہم ابن مقلہ کی ذہانت اس کے کام آئی ۔ وہ فرار ہو کر بچ گیا اور اس کے بعد پانچ لاکھ دینار خلیفہ کو نذر کر کے دوبارہ وزارت حاصل کر لی ۔ مگر اس کے سیاسی عزائم نے دوبارہ اس کے لیے مسائل پیدا کئے ۔ یہاں تک کی راضی باللہ نے اس کو وزارت سے معزول کر کے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کا دایاں ہاتھ کٹوادیا۔ بلاشبہ یہ ایک سخت ترین سزا تھی جو کسی فن کار کو دی جاسکتی تھی۔ گھر کی قید میں جو اشعار وہ پڑھا کرتا تھا، اس میں سے ایک شعر یہ تھا :

لیس بعد الیمین لذۃ عیش یا حیاتی بانت یمینی فبینی

دایاں ہاتھ کٹ جانے کے بعد زندگی میں کوئی لطف نہیں، اے میری زندگی جب میرا دایاں ہاتھ مجھ سے جدا ہو گیا تو تو بھی جدا ہو جا۔

ابن مقلہ کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کی۔ یہاں تک کہ بائیں ہاتھ سے بھی وہ اتنا ہی اچھا لکھ لیتا تھا جیسا وہ دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا۔ پھر اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ میں ایک قلم باندھا اور اس سے لکھنے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کٹنے سے پہلے کے خط اور ہاتھ کٹنے کے بعد کے خط میں کوئی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ یہ باکمال انسان اپنے گھر کے قید خانے میں ۵۶ سال کی عمر میں مر گیا۔ (ہٹی ، صفحہ ۴۴۷)

ابن مقلہ شاعر بھی تھا۔ اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ماتم میں بہت سے اشعار موزوں کیے ۔ وہ کہتا تھا :

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page