Al-Risala · February 1990 · page 21

نفرت، محبت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۲۱

خون سے لالہ زار ہو گئی ۔

۱۸۵۷ کے غدر ( یا جنگ آزادی ) میں یہ واقعہ ہوا کہ مسلمان اس بات پر بھڑک اٹھے کہ انھیں وقت کے حکمرانوں کی طرف سے ایسے کارتوس دیے گئے ہیں جن میں خنزیر کی چربی لگی ہوئی ہے ۔ یا کچھ انگریز سپاہی اپنے گھوڑوں پر چڑھ کر کسی مسجد کے اندر داخل ہو گئے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے انگریزوں سے جو لڑائی لڑی ، اس میں لاکھوں مسلمان مارے گئے ۔ بے شمار مسلمانوں کا خون بہا۔ مگر سب کچھ لا حاصل ، کیوں کہ جو صورت حال تھی ، وہ بدستور مزید شدت کے ساتھ برقرار رہی۔ اس وقت سے لے کر اب تک لڑائی بھڑائی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ مسلمان ہر طرف اپنا خون بہا رہے ہیں ۔ غیر قوم کا کوئی شخص مسجد کی دیوار پر رنگ ڈال دے ۔ کوئی مسجد کے سامنے غلط نعرے لگا دے ۔ کوئی جلوس باجا بجاتا ہوا مسجد کی سڑک سے گزر جائے ۔ اس طرح کا کوئی واقعہ ہو تو مسلمان مشتعل ہو کر لڑ جاتے ہیں ، اس کے بعد مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان فساد ہوتا ہے گولیاں چلتی ہیں ۔ بے شمار لوگ مارے جاتے ہیں ۔ اس طرح کے جھگڑے اور لڑائیوں میں مسلمانوں کا جو خون بہتا ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کو ناپنے کے لیے بالٹی کی نہیں بلکہ ڈرم کی ضرورت ہوگی۔ مسلمانوں کے اپنے بیان کے مطابق سڑکوں پر مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے ۔ بستیاں مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو رہی ہیں ۔

اب دیکھیے کہ یہ سارا خون جو بہایا جا رہا ہے اس کا فائدہ کیا ہے ۔ کیا اس کی وجہ سے خدا کے بندے خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں ۔ کیا اس کی وجہ سے اسلام کے دشمن اسلام کے دوست بن رہے ہیں ۔ کیا اس کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے کہ قومیں اور قبیلے اسلام میں داخل ہو کر اسلام کی طاقت بن جائیں ۔

ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے خون کا سیلاب ایک سو سال سے بھی زیادہ مدت سے بہہ رہا ہے ۔ مگر کوئی بھی شخص نہیں جس کی روح کو خون کا س دریا نے پاک کیا ہو۔ کوئی ایک آدمی نہیں جو اس خون کی وجہ سے مسلمانوں کے دین میں داخل ہوا ہو۔ کوئی ایک قبیلہ نہیں جس نے مسلمانوں کے اس عمل کو دیکھ کر ایسا کیا ہو کہ وہ خدا کی نافرمانی کو چھوڑ کر خدا کا مومن و مسلم بن جائے یہ فرق کیوں ہے ۔ دور رسالت میں پانی نے جو نتیجہ دکھایا تھا ، بعد کے دور میں خون بھی وہ نتیجہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page