Al-Risala · February 1990 · page 32

رحمت للعالمين

الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۲

بلا اسلام)

اس سفر میں میری ملاقات ڈاکٹر عبد المنعم خطاب سے ہوئی۔ وہ مصری عالم ہیں اور ۲۰ سال سے امریکہ کی ریاست اوہائیو کے شہر ٹالیڈو میں رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ شیخ محمد عبدہ نے جو کچھ کہا ہے اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے (هذا حق ) شیخ محمد عبدہ نے یہ بات کردار کے اعتبار سے کہی۔ میرے ذاتی تجربہ کے مطابق بھی یہ ایک حقیقت ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انھوں نے کردار کی طاقت کھو دی ہے۔ اور مغربی قوموں کی سب سے طاقت یہ ہے کہ وہ کردار کی طاقت سے مسلح ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو مغلوب اور اہل مغرب کو غالب بنا دیا ہے نہ کہ وہ نام نہاد سازشیں مؤامرات) جن کا ذکر مسلمانوں کی ہر تقریر و تحریر میں جوش و خروش کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ موریس بکائی کی کتاب (بائبل قرآن اور سائنس کا عربی ترمگر ہو گیا ہے۔ چنانچہ بڑی تعداد میں عربوں نے اس کو پڑھا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے کہا کہ موریس بکائی نے قرآن کا تو پوری طرح اعتراف کیا ہے ، مگر انھوں نے حدیث کا انکار کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس انکار کی وجہ یہ ہے کہ موریس بکائی نے ایک نکتہ کو نہیں سمجھا۔

اصل یہ ہے کہ جس زمانہ میں قرآن اترا اس زمانہ میں ساری دنیا میں تمثیلی اسلوب رائج تھا۔ اس بنا پر حدیث میں زمانی رعایت کی بنا پر کہیں کہیں تمثیل کا اسلوب بھی ملتا ہے۔ جمہ قرآن میں تمثیل کا اسلوب موجود نہیں۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ آگ کی شدت جہنم کی سانس کی وجہ سے ہے (ان شدة الحر من فيح جَھَنَّمَ یہ تمثیل ہے نہ کہ حقیقت۔ چنانچہ قرآن میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ؛ قل نار جهنم اشد حراً (التوبه ۸۱)

موریس بکائی نے اس قسم کی حدیثوں کو حقیقت پر محمول کیا اور ان کا انکار کر دیا۔ کیوں کہ ( سائنسی اعتبار سے یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی کہ مئی جون کی گرمی جہنم کی پھونک سے ہو سکتی ہے۔ یہ سن کر ایک صاحب نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کے کلام میں زمانی تائید پایا جاتا ہے۔ الرمان / فروری ۱۹۹۰ء 32

‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues

Printed page