The great man-river builder.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۰، صفحہ ۳۷
لے جارہے ہیں۔ مگر دنیا میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو واقعات سے شکر کی غذا لیتے ہوں۔ ہوٹل میں میرا قیام اس کی نویں منزل میں تھا۔ ۲۸ ستمبر کی صبح کو مجھے نیچے اترنا تھا۔ لفٹ میں داخل ہو کر میں نے نمبر 9 کا بٹن دبایا۔ مگر لفٹ حرکت میں نہیں آئی۔ میں بار بار دباتا رہا مگر وہ مطلق متحرک نہ ہو سکی۔ میں نے سمجھا کہ یہ خراب ہے۔ اور ارادہ کیا کہ اس کو چھوڑ کر دوسری لفٹ میں چلا جاؤں۔ اچانک خیال ہوا کہ میں غلط بٹن دبا رہا ہوں۔ نمبر ۹ تو اس منزل کا بٹن تھا جس پر ہر وقت میں موجود تھا۔ مجھ کو دراصل صفر (٠) والا بٹن دبانا چاہئے۔ چنانچہ اگلے لمحہ میں نے صفر کا بٹن دبایا تو فوراً لفٹ نے مجھے نیچے پہنچا دیا۔
اس دنیا میں کوئی حقیقی نتیجہ پیدا کرنے کے لئے صرف حرکت کافی نہیں۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حرکت صحیح ہو۔ غیر صحیح حرکت کبھی اس دنیا میں نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی، خواہ اس کو سیکڑوں سال تک جاری رکھا جائے۔
۲۸ ستمبر کو جمعہ تھا۔ جمعہ کی نماز مسجد مولای محمد میں پڑھی۔ وہاں پہنچ کر مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا کہ ایک صاحب تیزی سے چلتے ہوئے میری طرف آئے۔ انھوں نے میرے قریب آکر کہا: يا شيخ ادع لى ولدريتي ۱۰۰۰ اسمى محمد الاحتمال اصل یہ ہے کہ ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی گوشہ ایسا ہوتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ جہاں اس کے وسائل اس کو ناکافی نظر آتے ہیں۔ جہاں وہ کسی بر تر مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اس جذبہ کا صحیح استعمال اللہ کو پکارنا ہے۔ مگر انسان جب اللہ کو نہیں پاتا تو وہ زندہ یا مردہ انسانوں کو پکارنے لگتا ہے۔
امام صاحب نے طویل خطبہ دیا۔ اس عربی خطبہ میں انھوں نے مختلف باتیں بتائیں۔ مثلاً انھوں نے یہ حدیث سنائی: قليل العلم خير من كثير العبادة (تھوڑا علم زیادہ عبادت سے بہتر ہے)، اس کی تشریح انھوں نے خالص روایتی اور تقلیدی انداز میں کی۔ اس قسم کی تشریح آج کے انسان کے ذہن کو نہیں جھنجھوڑتی۔ وہ اس کے فکر کا جزو نہیں بنتی۔ وہ تقدس اور احترام کے جذبہ کے تحت اس کو سن لیتا ہے، اور اس کے بعد اٹھ کر چلا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1990 All issues