روزہ کا ثواب
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۲
روزہ کا ثواب
رمضان میں ایک مہینہ کا روزہ رکھنا اسلام کی ایک خصوصی عبادت ہے اور حدیث میں مختلف طریقوں سے اس کے خصوصی ثواب کو بتایا گیا ہے۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
عن ابی ھریرۃ ، قال قال رسول اللہ صلی اللہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیہ وسلم : کل عمل بن آدم یضاعف فرمایا۔ انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک الحسنۃ بعشر امثالھا الی سبعمأۃ ضعف بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا مگر روزہ کا معاملہ قال اللہ تعالی الا الصوم فانہ لی وانا جدا ہے۔ روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ اجزی بہ ۔ یدعُ شھوتہ وطعامہ دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش کو اور اپنے کھانے کو میرے من اجلی - للصائم فرحتان فرحۃ لیے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک عند فطرہ وفرحۃ عند لقاءہ خوشی روزہ افطار کے وقت، اور دوسری خوشی اپنے (متفق علیہ) رب سے ملنے کے وقت ۔
روزہ کا یہ غیر معمولی فائدہ اس لیے ہے کہ روزہ کی مشقت آدمی کی نفسیات کے اندر غیر معمولی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اس کی زبان سے غیر معمولی انداز کی دعائیں نکلنے لگتی ہیں۔
روزہ میں جب بھوک پیاس تڑپاتی ہے تو آدمی کو اپنی بے چارگی یاد آتی ہے۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے لگتا ہے۔ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا، میں نے تیرے ایک حکم کی تعمیل کی، مگر میں تیرے بہت سے حکموں کی تعمیل نہ کرسکا۔ میں نے ایک دن کا روزہ رکھا مگر میں دوسرے بہت سے مواقع پر " روزہ " نہ رکھ سکا۔ تو اپنی رحمت خاص سے مجھے بخش دے۔
جب بندہ کی زبان سے اس قسم کی دعائیں نکلتی ہیں تو خدا کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد " دس گنا " اور " سات سو گنا " کی حد کو توڑ کر اس کے ثواب کو بے حساب گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ عبادت کا عمل دنیا میں کیا جاتا ہے اور اس کا اجر آخرت میں ملتا ہے ۔ مگر روزہ استثنائی طور پر ایک ایسی عبادت ہے جس کے اجر کا تجربہ اسی دنیا میں کرا دیا جاتا ہے۔ افطار گویا روزہ کے اجر کا ابتدائی تجربہ ہے اور آخرت کا بے اندازہ ثواب اس کا انتہائی تجربہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues