سبب کیا ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۲۸
اترنا پڑے گا۔ جو لوگ فخر اور ناز کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان کی یہ نفسیات ان کے لیے کسی بات کو ماننے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے جس میں ان کا فخر و ناز انہیں ٹوٹتا ہوا نظر آئے۔ جو لوگ اپنا منصب احتساب قوم سمجھ بیٹھیں وہ اپنے مزاج کی بنا پر ایسی کسی پکار کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس میں احتساب خویش پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہو۔ جو لوگ آرزوؤں اور خوش خیالیوں کی دنیا میں جی رہے ہوں وہ کسی ایسے پیغام کو اپنے لئے اجنبی محسوس کرتے ہیں جس میں حقائق و واقعات کی رعایت کرکے زندگی کی تعمیر کا سبق دیا گیا ہو۔ جن لوگوں کی نگاہ اپنی ذمہ داریوں کے بجائے اپنے حقوق پر ہو، جن کے اندر خارجی طرز فکر پیدا ہو جائے وہ ایسی کسی دعوت کو غیر ضروری سمجھ کر رد کر دیتے ہیں جس میں انہیں ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی جائیں اور ان کے اندر داخلی طرز فکر ابھارنے کی کوشش کی جائے۔
جو لوگ اپنے متعلق یہ سمجھ لیں کہ وہ بخشے ہوئے لوگ ہیں وہ ایسے پیغام کی معنویت کو سمجھ نہیں پاتے جس میں اپنی موجودہ حالت کے تحت انہیں اپنی بخشش مشتبہ نظر آتی ہو۔ جن لوگوں نے تخیلات کی رومانی دنیا میں اپنے قلعے بنا رکھے ہوں وہ کسی ایسے پیغام کو اہمیت دینے میں ناکام رہتے ہیں جس کو ماننے کی صورت میں انھیں دکھائی دے کہ وہ کسی محفوظ قلعہ میں نہیں ہیں بلکہ صحرا میں کھڑے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں نے یہ عقیدہ بنا رکھا ہو کہ کسی عمل کے بغیر پیشگی طور پر ان کے لئے جنت کے محلات رزرو ہو چکے ہیں وہ کسی ایسی تحریک میں حصہ لینا غیر ضروری سمجھتے ہیں جس میں عمل کی بنیاد پر جنت میں داخلہ کا راز بتایا گیا ہو حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بگڑا ہوا مزاج ہے۔ جو لوگ بگڑے ہوئے مزاج میں مبتلا ہوں، ان کو صرف اپنے مزاج کے مطابق بات ہی اپیل کرتی ہے۔ دوسری کوئی بات ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ بیان کر دی جائے، وہ کسی طرح انھیں اپیل نہیں کرتی۔ اپنے مخصوص مزاج کے خلاف کسی بات کو ماننا ان کے لئے اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے جتنا کہ بکری کے لئے گوشت کھانا اور شیر کے لئے گھاس چرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues