Al-Risala · March 1991 · page 34

سفر نامہ روس ــــــــ ۲

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۳۴

نہیں ، صرف اس لئے کہ اگر وہ اس میں منصوبہ کو مان لیں تو فوراً منصوبہ ساز کو ماننا پڑے گا ، اور ان کا مزاج کسی منصوبہ ساز کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔

مزاجی اعتبار سے آدمی اگر کسی بات کو ماننا نہ چاہتا ہو تو دلیل اس کو منوانے کے لئے کافی نہیں ہوسکتی ، خواہ کتنے ہی زیادہ طاقت ور دلائل کے ساتھ اس کو ثابت کر دیا گیا ہو۔ خواہ کتنے ہی زیادہ حقائق اس کی تصدیق کرنے کے لئے موجود ہوں۔

حال میں سوویت روس کے اندر جو تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ بے حد سبق آموز ہیں۔ روس میں ۱۹۱۷ میں کمیونسٹ انقلاب آیا۔ دوسری عالمی جنگ میں کمیونسٹ روس کو یہ موقع ملا کہ وہ بہت بڑے رقبہ کو اپنے اندر شامل کرلے۔ اس موضوع پر کچھ لوگوں سے میری گفت گو ہوئی۔ میں نے جو کچھ کہا ، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت روس کے لئے امریکہ سب سے بڑا نظریاتی اور فوجی دشمن تھا۔ سوویت روس کے حکمرانوں نے اپنی ساری توجہ سب سے زیادہ دو چیزوں پر لگادی۔ ایک ، تمام اشاعتی ذرائع کو استعمال کرکے یہ ثابت کرنا کہ امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام سب سے برا نظام ہے اور روس کا اشتراکی نظام سب سے بہتر نظام (9/764)

دوسری طرف روس نے اپنے بہترین سائنسی دماغوں کو جنگی اہمیت کی چیزوں کی ریسرچ پر لگا دیا۔ ۱۹۴۹ میں سوویت روس نے اپنے پہلے نیو کلیئر ہتھیار کا تجربہ کیا۔ اس طرح اُس نے اس افسانہ کا خاتمہ کر دیا کہ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جو نیوکلیئر ہتھیار رکھتا ہے (72/9) اس کے بعد روس نے اکتوبر ۱۹۵۷ سے اسپٹنک (مصنوعی سیارہ) کا سلسلہ شروع کیا۔ اس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسے مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے جو زمین کے گرد گھومتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کے بارہ میں لکھا گیا کہ سوویت روس نے تاریخ میں پہلی بار خلائی دور شروع کیا : Soviet Union ............. inaugurated the Space Age (IX/500). سوویت روس اپنی چالیس سالہ کوششوں سے امریکہ کے بعد دوسری سب سے بڑی طاقت (سُپر پاور) بن گیا۔ مگر روس کو یہ کامیابی ایک بے حد مہنگی قیمت پر ملی ۔ جنگی دیو بننے کے لئے اس کو اپنے وسائل کی اتنی زیادہ مقدار صرف ایک محاذ پر لگانی پڑی کہ دوسرے اقتصادی شعبوں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page