Al-Risala · April 1991 · page 16

اخلاق رسول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۱۶

اخلاق رسول

جمادی الاول ۱۱ھ کی تاریخ ہے اور ذاتِ وہ وہ ہے جو تمام تاریخ میں ایک درخشندہ ستارہ ہے۔ مسلما نوں کے لئے اس حادثۂ فاجعہ سے بڑھ کر کوئی اور حادثہ قیامت تک پیش نہیں آ سکتا تھا۔ علیہ وسلم ایک مقام پر آرام فرمارہے تھے آپ کی وفات کا وقت قریب آپہنچا۔

اس وقت آپ سخت کمزوری اور نقاہت کی حالت میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص دیوار کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور آپ کو تاک رہا ہے ۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس شخص کو پکڑ لاؤ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب اس شخص کو پکڑ لائے تو معلوم ہوا کہ یہ ملک الموت ہے جو آپ کی روح قبض کرنے آیا تھا ۔ اس نے کہا کہ اب آپ کو مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ آپ کو اختیار ہے کہ دنیا کی زندگی پسند کرتے ہیں یا اللہ کے حضور میں جانا؟ " اللہ " میں نے دنیا پر خدا کا قرب پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کر لی۔ جب فرشتہ نکل گیا تو آپ نے زبانِ مبارک سے فرمایا کہ اب ہم اپنے رفیقِ اعلیٰ کے پاس جارہے ہیں ۔ آپ نے یہ کلمات کہہ کر اپنے دونوں ہاتھ پھیلادیے اور روح نکل گئی۔ اس وقت آپ کے گھر میں کوئی چراغ نہیں تھا ۔ تمام گھر تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔

اس حادثہ سے تمام گھر میں کہرام مچ گیا۔ چاچیاں، چچازاد بہنیں، بچے اور گھر والے سب رونے لگے۔ اس واقعہ کے بعد گھر میں پھر سے کہرام مچ گیا ۔ چاچیاں، چچازاد بہنیں، بچے اور گھر والے سب رونے لگے۔ ۱۲/۳ ( تاریخ ابن کثیر ) ( ملاحظہ ہو تاریخ ابن کثیر ج ۵ ص ۲۴۴ )

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ذکر کردہ واقعہ کی گواہی اور تائید اس طرح ہوتی ہے کہ اس واقعہ کے کچھ عرصہ کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو ایک موقع پر جب وہ کسی سفر پر جا رہے تھے تو راستہ میں ایک ویرانہ سے گزرتے ہوئے ایک بزرگ کی آواز سنی کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو انہوں نے ان بزرگ سے پوچھا کہ حضرت آپ نے یہ کیا بات کہی ہے؟ اس بزرگ نے کہا کہ اے امیر المومنین! بات دراصل یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ کے گھر والوں نے آپ کی تدفین نہیں کی تھی اور آپ کی تدفین سے قبل یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ جو کچھ کہا جا رہا ہے، اس کی تصدیق کرلو۔ چنانچہ اس پر مزید تحقیق شروع ہوئی ۔ اس واقعہ کی تصدیق کے لئے جب مدینہ منورہ کے کچھ معتبر لوگوں کو بلایا گیا تو انہوں نے اس واقعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا ۔ اس واقعہ کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ایک شخص نے آکر سلام میں داخل ہو گیا تھا۔ اس نے ایک پردہ کے صورت میں نقاب چہرہ پہنا ہوا تھا۔ وہ ایک اور قصہ تھا ۔ اس قصہ کے اندر جو اسناد تھی، وہ اسناد نام مقبول کیا اور اس کے بعد اس نے تمام واقعات بیان کیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ واقعہ لوگوں کے سامنے کھل گیا اور اس روایت کے دونوں حصوں کی پیشوائی اور تصدیق ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues

Printed page