ایک تاریخی میٹنگ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۳۰
صورت میں فرد یا افراد اگر عدالتی فیصلہ کو نہ مانیں تو پولیس اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ انہیں ماننے پر مجبور کیا جاسکے۔ مگر بابری مسجد۔ رام جنم بھومی کا مسئلہ دو افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ دو قوموں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اور جس مسئلہ میں دو پوری قوم شامل ہو جائے ۔ اس میں عدالت کا فیصلہ قوم کی مرضی ہی سے نافذ کیا جاسکتا ہے۔ قوم کی مرضی کے بغیر ایسے فیصلے کا نفاذ ممکن نہیں۔
یہی خاص فرق ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کے لئے یہ ممکن ہوا کہ وہ شاہ بانو کیس کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہ مانیں ، اور ان کا نہ ماننا سپریم کورٹ کے فیصلے کو بے اثر بنا دے۔ اگر اس کی حیثیت صرف شخصی معاملہ کی ہوتی تو یہ نا ممکن تھا کہ شاہ بانو کے شوہر محمد احمد کے انکار سے ایک عدالتی فیصلے کا لعدم ہو کر رہ جائے۔
میرے نزدیک اس مسئلہ کا واحد قابل عمل حل یہ ہے کہ دونوں فریق ثالثی (arbitration) کے اصول پر راضی ہو جائیں ۔ دونوں فریق پیشگی طور پر تحریری اقرار نامہ دیں کہ یہ ثالث ( تھرڈ پارٹی) جو بھی فیصلہ دے گا اس کو وہ بلا بحث مان لیں گے ۔ فیصلے کے بعد وہ اس کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ تقریباً چار سال پہلے یہ مسئلہ اس حل کے کنارے پہنچ چکا تھا مگر بعض مسلم لیڈروں کی ناقابل فہم نادانی کی بنا پر وہ عملاً واقعہ نہ بن سکا۔
ایک تاریخی میٹنگ
یہ ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ کی بات ہے۔ نئی دہلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں اسی خاص مسئلہ پر ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ اس میں ہندو سائیڈ اور مسلم سائیڈ دونوں طرف کے ذمہ دار لوگ جمع ہوئے۔ ہندو سائیڈ سے جو لوگ شریک ہوئے، ان میں دوسرے ذمہ داروں کے علاوہ ہمنت اوپید ناتھ بھی تھے جو رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمتی کے صدر ہیں اور وشو ہندو پریشد کے ٹکٹ پر ایم پی بھی ہیں۔ مسلم سائیڈ سے جو لوگ شریک ہوئے ، ان میں سید شہاب الدین صاحب اور دوسرے ذمہ دار حضرات موجود تھے۔ اس میٹنگ میں میں بھی خصوصی دعوت پر شریک تھا۔ پہلے حسب عادت دونوں فریق اپنا اپنا دعویٰ پیش کرتے رہے اور ایک دوسرے کی بات کا جواب دیتے رہے۔ دعویٰ اور اس کی تردید کا یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔
آخر میں میں نے کہا کہ یہ طریقہ مسئلہ کو حل کرنے کا نہیں ہے۔ مسئلہ کے حل کی واحد تدبیر یہ ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues