Al-Risala · May 1991 · page 13

Countdown to zero

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۳

خلیج کی ہولناک جنگ جاری ہے۔ دونوں طرف سے زبردست نقصانات ہو رہے ہیں۔ انسان مارے جا رہے ہیں۔ شہر تباہ ہو رہے ہیں۔ سمندروں اور فضاؤں میں زہریلے اثرات پھیل جانے کی وجہ سے یہ حالت ہے کہ چڑیاں اور مچھلیاں تڑپ تڑپ کر مر رہی ہیں۔ اس تباہ کن جنگ پر صرف امریکہ کے زیر قیادت اتحادی فوجوں (الائید فورسن) کا خرچ تقریباً ایک بلین ڈالر روزانہ ہے۔

جنگ لڑنے والے ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ وہ انسانی فلاح کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ خلیج کی موجودہ جنگ میں امریکہ کے زیر قیادت ۲۸ ملکوں کا اتحادی گروہ یہ کہتا ہے کہ وہ ایک کمزور قوم کے ساتھ ایک طاقت ور کی جارحیت کے خلاف لڑ رہا ہے۔ صدام حسین کے نزدیک اس جنگ کا مقصد ماضی کی غلطی کی اصلاح ہے یعنی کویت، جو ان کے نزدیک عراق کا حصہ تھا، اس کو دوبارہ عراق میں شامل کیا جائے۔ ۱۸۹۸ میں امریکن۔ اسپینش جنگ چڑی۔ اس وقت برطانیہ اور دوسرے یورپی ملکوں کے سفیر واشنگٹن میں جمع ہوئے تاکہ امریکہ کے صدر میک کنلے کو جنگ سے اعراض پر آمادہ کریں۔ اس وقت دونوں کے درمیان جو بات چیت ہوئی، اس کا خلاصہ امریکی اخبار میں اس طرح بیان کیا گیا تھا کہ سفیروں نے کہا کہ ہم کو امید ہے کہ انسانیت کی خاطر آپ جنگ نہیں کریں گے۔ صدر نے جواب دیا کہ ہم کو امید ہے اگر ہم جنگ کریں تو یہ عین انسانیت کی خاطر جنگ ہوگی :

Their ambassadors in Washington had a meeting with the US President, and the diplomatic exchanges were summarised by the New York World, of April 8, 1898, thus:

Said the six ambassadors: “We hope for humanity's sake you will not go to war.”

Said Mr McKinley in reply: “We hope if we do go to war, you will understand that it is for humanity's sake.”

پچھلے پچاس سال میں صرف "تیسری دنیا" میں تین سو چھوٹی بڑی لڑائیاں ہو چکی ہیں۔ ان میں سے ہر فریق اپنے آپ کو برحق بتاتا ہے۔ یہ صورت حال آخرت کو ایک لازمی اخلاقی ضرورت ثابت کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت نہ آئے تو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کون شخص حق پر تھا اور کون شخص ناحق پر۔ جنگ چھیڑنا اپنے اختیار میں ہے مگر جب جنگ چھڑ جائے تو اس کی تباہی اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔ عقلمند وہ ہے جو جنگ کی نوبت ہی آنے نہ دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page