Al-Risala · May 1991 · page 36

We talk on principle, but we act interest.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۳۶

آج کی ڈاک سے لاہور کا ماہنامہ آئین (فروری ۱۹۹۱) ملا۔ یہ جماعت اسلامی پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ۲۶ جنوری کو جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس لاہور میں ہوا۔ اس میں خلیج کے مسئلہ سے متعلق ایک قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی خلیج کی یہ جنگ اپنے سامراجی مقاصد اور سیاسی عزائم کے لیے کر رہا ہے۔ اس کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ اور یہ کہ ”یہ پوری دنیا کے مسلمانوں اور امن پسند انسانوں کے دل کی پکڑ ہے۔ اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور عراق دونوں کو ضد اور ہٹ دھرمی کی روش ترک کر کے امن کی اس اپیل پر لبیک کہنا چاہیے۔ “ جماعت اسلامی کی یہ اپیل میرے نزدیک کھوکھلے الفاظ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ کیوں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا یہ ظالمانہ اقدام اپنے ذاتی انٹرسٹ کے تحت ہوا ہے، اور جہاں ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ ہو وہاں کوئی بھی اپنی ضد کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ خود مذکورہ اپیل کرنے والے لوگ بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال خود پاکستان کا واقعہ ہے۔ پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے مسٹر بھٹو پر مقدمہ چلا کر عدالت سے پھانسی کا فیصلہ حاصل کیا۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اور جماعت اسلامی نے پوری طرح اس معاملہ میں جنرل ضیاء الحق کی تائید کی۔ جب مسٹر بھٹو کی پھانسی کا اعلان ہوا تو تمام دنیا کے ممالک (بشمول مسلم ممالک) نے اپیل کی کہ بھٹو کو پھانسی نہ دی جائے۔ مگر جماعت اسلامی اور جنرل ضیاء الحق نے اس عمومی اپیل کی پرواز کی اور بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بھٹو کا زندہ رہنا ان کی اپنی سیاسی موت کے ہم معنی ہوگا۔

آج تمام لوگوں کا یہ حال ہے کہ جہاں ان کا ذاتی انٹرسٹ ہو وہاں وہ کسی کی بات نہیں سنتے۔ ایسے لوگ دوسروں کو کس طرح نصیحت کر سکتے ہیں کہ تم اپنے انٹرسٹ کو نظر انداز کر کے دوسروں کی بات سنو اور اپنے اقدام کو واپس لے لو۔ لوگوں کے پاس دوسروں کے لیے اصول ہے اور اپنے لیے مفاد۔ اس معاملہ میں لوگوں کا حال وہی ہے جو برطانی ادیب ڈبلیو ایس لینڈر (۱۸۶۷ - ۱۷۷۵) نے کہا تھا کہ ہم اصول کی بات کرتے ہیں مگر ہم مفاد پر عمل کرتے ہیں :

We talk on principle, but we act interest.

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page