Al-Risala · June 1991 · page 9

جنت، جہنم

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۹

جنت، جہنم

عن أبو هريرة ، قال قال رسول الله صلى الله عليه ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وسلم : ما رأيت مثل النار نام هاربها وما میں نے جہنم جیسی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا رأيت مثل الجنة نام طالبها۔ سو گیا ہو۔ اور میں نے جنت جیسی چیز نہیں دیکھی جس (رواه الترمذي) کا چاہنے والا سو گیا ہو۔

آدمی کو سب سے زیادہ جہنم سے بھاگنا چاہیے۔ مگر آدمی جہنم کے مسئلہ کو بالکل بھولا ہوا ہے۔ آدمی کو سب سے زیادہ جنت کا طالب بننا چاہیے، مگر اس کے اندر جنت کو حاصل کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ یہی دو لفظ میں تمام انسانوں کی کہانی ہے۔

انسانوں کا یہ حال کیسا عجیب ہے۔ لوگ احساس کے درجہ میں بھی جہنم سے اندیشہ ناک نہیں۔ لوگ تمنا کے درجہ میں بھی جنتِ خداوندی کے طالب نہیں۔ ایسی حالت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ جہنم کی آگ سے نجات پائیں اور ان کے لیے جنت کی نعمتوں کے دروازے کھولے جائیں۔

لوگوں کے اندیشے کسی اور چیز کے لیے ہیں۔ ان کے جذبات کسی اور بات پر بھڑکتے ہیں۔ ان کے اندر چھپے ہوئے خوف اور امید کے جذبات کسی اور چیز کے لیے وقف ہیں۔ ایسی حالت میں کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کی رحمتوں کے مستحق قراردیے جائیں۔

مسئلہ دنیا کو لوگوں نے اپنا مسئلہ بنا رکھا ہے۔ مسئلہ آخرت کو کسی نے اپنا مسئلہ نہیں بنایا۔ دنیا کی دولت، دنیا کی قیادت، دنیا کی مقبولیت، دنیا کی نیک نامی ، یہی سب چیزیں لوگوں کی توجہات کا مرکز ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی نہیں جو آخرت کی بخشش اور آخرت کی نجات کے معاملہ میں فکر مند ہو۔ آخرت کے عذاب کا خوف اور آخرت کی جنت کی حرص جس کو سراسمہ بنا دے۔

آہ وہ دنیا، جہاں سب کچھ ہو ، مگر وہی چیز نہ ہو جس کو سب سے زیادہ ہونا چاہیے۔ آہ وہ انسان، جو سب کچھ جانے، مگر وہی بات نہ جانے جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہیے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی بھول ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ آدمی اپنی اسی بھول کو جانے گا۔ مگر وہ جاننا صرف حسرت کے لیے ہوگا نہ کہ کھوئے ہوئے کی تلافی کے لیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page