اصل حقیقت
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۳۳
کے نتیجہ میں بنگلہ دیش نے سیاسی آزادی تو حاصل کر لی ۔ مگر اس سیاسی آزادی کے بعد جو ملک بنا وہ صرف ایک کمزور اور بدحال ملک تھا۔ عالمی نقشہ میں اس کی کوئی قیمت نہ تھی۔ جب اصل سبب دور نہ کیا گیا ہو تو انقلاب صرف ایک نئی بربادی کے ہم معنیٰ ثابت ہوتا ہے۔
اس وقت پنجاب ، آسام ، اور کشمیر میں علیحدگی پسندی کی جو تحریکیں چل رہی ہیں ، ان سب کی مشترک غلطی یہی ہے ۔ ان صوبوں کے لوگوں کو کچھ شکایتیں ہیں ۔ یہ شکایتیں بالفرض درست ہوں ، تب بھی ان کے اسباب کچھ اور ہیں۔ مگر ان صوبوں کے لیڈروں نے ساری ذمہ داری " نئی دہلی " پر ڈال کر علیحدگی کی تحریک چلا دی۔ اگر بالفرض یہ تحریکیں کامیاب ہو جائیں اور انھیں ان کی مطلوبہ آزادی مل جائے تو یہ ان کے لئے موجودہ صورت حال سے بھی زیادہ برا ہو گا۔ وہ ایک کمزور اور بدحال ملک کی حیثیت سے زندہ رہیں گے ۔ وہ صرف نیا بنگلہ دیش بنائیں گے ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اس دنیا میں جب بھی کسی شخص یا گروہ کو کوئی محرومی پیش آتی ہے تو وہ خود اپنی کسی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسروں سے لڑنے کے بجائے خود اپنی کمی کو دور کرے۔ اگر اس نے اپنی داخلی کمی کو دور کر لیا تو اس کی خارجی کمی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔
اصل حقیقت
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں ہر وقت مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آگے بڑھ جاتا ہے اور کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ کوئی زیادہ پر قابض ہو جاتا ہے اور کسی کو کم پر راضی ہونا پڑتا ہے۔
مگر اس قسم کی کوئی بھی صورت حال مستقل نہیں۔ یہاں ہر پچھڑے ہوئے کے لئے موقع ہے کہ وہ از سر نو محنت کرکے آگے بڑھ جائے ۔ اور ہر آگے جانے والے کے لئے اندیشہ ہے کہ وہ نئے چیلنج کا مقابلہ کرنے میں کمزور ثابت ہو اور دوبارہ پچھلی صف میں پہنچ جائے۔ ایسی حالت میں زندگی کا اصل راز محنت ہے نہ کہ ٹکر آؤ ۔ بنگلہ دیش والوں نے تعلیم اور معاشی سرگرمیوں میں محنت کی ہوتی تو ایک روز آتا جب وہ پنجابیوں سے بھی آگے بڑھ جاتے۔ مگر منفی سیاست چلا کر وہ کچھ اور زیادہ برباد ہو گئے۔ اسی طرح پنجاب اور آسام اور کشمیر کے لوگ اگر تعلیم اور اقتصادیات جیسے تعمیری میدانوں میں محنت کریں تو وہ سارے ملک میں اونچا
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues