Al-Risala · June 1991 · page 43

United Nations High Commissioner for Refugees

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۴۳

پر سفر کرتا ہوا اپنی منزل کی طرف روانہ ہو، وہ مشکل سے یہ سوچ سکتا ہے کہ اس خوب صورت دنیا میں کچھ سیاہ دھبے بھی ہیں۔ مگر واقعہ یہی ہے۔

ایک رپورٹ (ٹائم ۱۸ جون ۱۹۹۰) کے مطابق، لاس اینجلس میں ماں باپ سے باغی یا بچھڑے ہوئے لڑکے بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ ان کے ۵۰۰ سے زیادہ گینگ ہیں جن سے تقریبا ۸۰ ہزار لڑکے وابستہ ہیں۔ ان لوگوں کے پاس پستول اور بندوق جیسے ہتھیار ہوتے ہیں۔ وہ قتل اور چوری اور منشیات جیسے جرائم میں مبتلا رہتے ہیں۔

ٹائم میگزین کے رپورٹر نے ایک پندرہ سالہ لڑکے سے پوچھا کہ تم نے فلاں آدمی کو کیوں قتل کیا۔ اس نے کہا کہ وہ ایک دشمن تھا۔ وہ دشمن کیوں تھا، لڑکا اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ اس نے کہا کہ مجھے اس قسم کے فعل پر کوئی ندامت نہیں۔ وقتی طور پر کچھ احساس ابھرتا ہے، اس کو ختم کرنے کے لئے میں قتل سے پہلے شراب پی لیتا ہوں (صفحہ ۲۰)

ٹائم نے اپنی تین صفحہ کی با تصویر رپورٹ ان الفاظ پر ختم کی ہے کہ لاس اینجلس کے اندرون شہر کے یہ نوجوان، زمین کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ سماج کے بیچ میں رہتے ہیں۔ وہ مصیبت زدگی اور محرومی کا جواب قدیم قبائل کی بھونڈی نقل کی طرف واپسی کے ذریعہ دے رہے ہیں: ...while inner-city youth of Los Angles, at the center of the most advanced society of earth, respond to adversity and deprivation by regressing to a primitive parody of tribes (p. 22). امریکہ کے لئے میرا موجودہ سفر ایسے وقت میں ہوا جب کہ امریکی فوجیں اگست ۱۹۹۰ سے خلیج میں عراق کا محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔ قدرتی طور پر آجکل یہاں کے اخبارات میں سب سے زیادہ اسی کا چرچا ہوتا ہے۔ ایک اخبار میں اس موضوع پر مفصل مضمون تھا۔ اس کے چند حصے یہ ہیں : صدام حسین ایک غیر فوجی آدمی ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ امریکہ خلیج سے نو ہزار میل کی دوری پر ہے۔ اس کی فوجوں کو یہاں پہنچنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔ وہ امریکہ کی مدد پہنچنے سے پہلے کویت اور سعودی عرب دونوں کو زیر کرنے میں کامیاب ہو چکے ہوں گے۔ مگر عراق کے اقدام کے بعد امریکہ نے انتہائی سرعت کے ساتھ ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو خلیج میں پہنچا کر تمام دنیا کو حیران کر دیا۔ امریکہ نے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page