ایک سنت
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۶
ایک سنت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اہل اسلام کے لئے ایک معیاری نمونہ ہے۔ اس سنت کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے، خواہ وہ مسواک جیسا انفرادی معاملہ ہو یا جہاد جیسا اجتماعی معاملہ۔ خواہ وہ آج کا مسئلہ ہو یا ہزاروں برس بعد کا کوئی مسئلہ۔
سنت کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک سنت وہ ہے جو اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے مطلوب ہوتی ہے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ صلوٰ کما رأیتمونی أصلی (مشکوٰة المصابیح ، ۱ / ۲۱۵) اس حدیث کا تعلق اصلًا نماز کی ظاہری صورت (form) سے ہے۔ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور خود بھی اسی طرح نماز ادا کی۔ اسی طرح اس کے بعد صحابہ کو دیکھ کر تابعین نے اور تابعین کو دیکھ کر تبع تابعین نے نماز پڑھی۔ یہ سلسلہ نسل در نسل امت میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ آج ہم جو نماز پڑھتے ہیں ، وہ بھی بالواسطہ طور پر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی نقل ہوتی ہے۔
اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے اونٹ پر بیٹھ کر حج کے مراسم ادا کئے تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ، مجھ کو حج کرتے ہوئے دیکھو اور اسی کے مطابق تم حج کے مناسک ادا کرو ( خذوا عنی مناسکم )
یہ سنت کی پہلی قسم ہے۔ اس میں یہ مطلوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی فعل کو جس شکل میں کیا ہے ، عین اسی شکل میں اس کو ادا کیا جائے ۔ اس کو سنت ظاہری کہا جاتا ہے۔ دوسری سنت سنت معنوی ہے۔ یعنی وہ سنت جو اپنی روح (Spirit) کے اعتبار سے مطلوب ہوتی ہے۔ اس دوسری سنت میں ظاہری شکل اضافی ہے ، اور اس کی معنوی روح حقیقی اور اصل مطلوب کی حیثیت رکھتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن ۲۳ سال کے عرصہ میں اترا۔ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ اترتا تو اسی وقت آپ کسی کاتب کو بلا کر اس کو لکھواتے۔ آپ کی خدمت میں ہر وقت کوئی نہ کوئی کاتب موجود رہتا۔ اس طرح کاتبان وحی کی تعداد ۴۰ سے زیادہ شمار کی گئی ہے۔ آپ کو اس کا اتنا زیادہ اہتمام
‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues