Al-Risala · July 1991 · page 18

ایک سنت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۸

یہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معنوی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو موجودہ زمانہ میں ضرورت تھی کہ اس سنت نبوی پر عمل کیا جاتا۔ مثلاً اس کی ایک صورت یہ تھی کہ موجودہ زمانہ میں پریس کی ایجاد اور مواصلات کے جدید ذرائع کے ظہور نے اس کا امکان پیدا کر دیا تھا کہ قرآن کو بآسانی تمام قوموں کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ اب اگر ہمارے رہنماؤں نے اس سنت کو زندہ کیا ہوتا۔ اور وہ قوم کو ابھارتے کہ قرآن کا ہر زبان میں مستند ترجمہ کرو۔ اس کو چھپواؤ۔ اور اس کو ساری دنیا میں پہنچاؤ تو یہ اتنا بڑا کام ہوتا کہ امت پوری کی پوری اس کام میں مشغول ہو جاتی۔ اس رخ پر عمل شروع کرنے کے بعد اس کے بے شمار پہلو نکلتے۔ ہر آدمی اس میں اپنے لئے کرنے کا کام پالیتا۔

اس طرح گویا مسلمان قرآن کو موجودہ زمانہ کے لحاظ سے از سر نو دریافت (Rediscover) کرتے۔ قرآن دوبارہ ان کے لئے ایک زندہ کتاب بن جاتا جو ان کی پوری زندگی میں دینی بھونچال پیدا کر دیتا۔ مگر بروقت اس قسم کی رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے پوری ملت سیاست کی چٹان پر بے فائدہ طور پر اپنا سر پٹک رہی ہے اور نتیجہ دین سے بھی محروم ہے اور دنیا سے بھی۔ شخصیاتِ اسلام رجالِ امت کے ایمان افروز واقعات جنوری ۱۹۹۲ کا الرسالة انشاء اللہ خصوصی نمبر کے طور پر شائع کیا جائے گا۔ اس کا عنوان ”شخصیات اسلام“ ہوگا۔ اس میں تابعین کے دور سے لے کر اب تک کی اسلامی شخصیتوں کے ایمان افروز واقعات درج ہوں گے۔

صاحبانِ ایکنسی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیں تو پیشگی طور پر مطلع فرمائیں۔ (قیمت ۵ روپیہ)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues

Printed page