حل کیا ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۱
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے پیچیدہ جھگڑوں کا عملی حل صرف یہ ہے کہ کوئی ایک فریق تنہا ریسک لینے پر آمادہ ہو جائے ، وہ تنہا ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے معاملہ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دے ۔ جب دو طرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل نہ کہا جا سکتا ہو تو اس کے بعد مسئلہ کو حل کرنے کی ایک ہی قابلِ عمل صورت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ اس کو یک طرفہ بنیاد پر حل کیا جائے۔ ایسی حالت میں میں اپنے مسلمان بھائیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس قربانی کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔ وہ ملک کی ترقی کے لئے اور نتیجہ خود اپنی ترقی کے لئے ، یہ قربانی دیں کہ وہ یک طرفہ طور پر اپنے اندر سے وقار کی مذکورہ نفسیات کو ختم کر دیں۔ قرآن کے الفاظ میں وہ ، کلمۂ جاہلیت کے مقابلہ میں کلمۂ تقویٰ کا ثبوت دیں (الفتح ۲۷) ، موجودہ حالات میں اس مسئلہ کا یہی واحد ممکن حل ہے۔
ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان جب بھی کوئی نزاع پیدا ہو تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس کو یا تو نظر انداز کر دیں یا اسی محدود دائرہ میں رکھ کر اس کو حل کرنے کی کوشش کریں جس محدود دائرہ میں وہ مسئلہ ابتدائی پیدا ہوا تھا۔ مسلمان کسی بھی حال میں ہرگز ایسا نہ کریں کہ اس کو پوری ملت کے وقار کا سوال بنا دیں۔ یہ طریقہ مسلمانوں کے لئے یک طرفہ قربانی کے ہم معنی ہوگا۔ مگر جس دن مسلمانوں نے یہ قربانی دے دی ، اسی دن ملک میں ترقی کا نیا سفر شروع ہو جائے گا۔ اور جو سفر شروع ہو جائے وہ آخر کار اپنی منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔
نزاعی مسئلہ کے حل کا یہی وہ یک طرفہ طریقہ ہے جس کا مظاہرہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ (۶۲۸ء) کے موقع پر کیا تھا۔ اس اصول کو ایک لفظ میں حدیبیہ اصول (Hudaybiya principle) کہا جا سکتا ہے۔ اس نازک موقع پر اگر مسلمان اس اصول کا مظاہرہ کریں تو وہ نہ صرف ملک کور ہنمائی دیں گے ، نہ صرف اپنا ملی مسئلہ حل کریں گے بلکہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کے ایک قیمتی اصول کی شہادت دیں گے۔ اور بلاشبہ اسلام کی شہادت سے زیادہ بڑا عمل اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues