Al-Risala · August 1991 · page 9

دورِ اوّل کا طریقہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۹

انا لَنعْلَمُ انَ الَّذِي تَقولُ حَقٌّ . ولكنّا ہم جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ بلا شبہ حق إِنّا اَسْمَعناكَ خِيفَاً اَن نَّخرِجَنَا العربُ مِن ہے۔ لیکن اگر ہم آپ کی پیروی کریں تو ہم کو ڈر ہے ارض مكة (التفسير المظهري) کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔

اس کا جواب دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ اس ہدایت کا اتباع کریں تو ہم کو ہماری زمین سے اچک لیا جائے گا (وَقَالُوا ان نَّتبِعِ الهُدَى مَعَك نُتَخَطَّفْ مِن ارضنا ( القصص ۵۷)

مکہ کے لوگوں کی سرداری اور معاش دونوں کا خاص ذریعہ یہ تھا کہ مکہ کے تمام قبیلوں کا بت انھوں نے کعبہ میں رکھ دیا تھا۔ اس طرح انہیں تمام قبائل عرب کی سرداری حاصل ہوگئی تھی۔ اسی کے ساتھ یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبیلے اپنے اپنے بتوں پر نذر چڑھانے کے لیے مکہ آتے تھے۔ یہ تمام نذرانے مکہ والوں کو ملتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خدا کا پیغام ان کے سامنے پیش کیا تو ان کی فطرت نے اس کے برحق ہونے کی تصدیق کی۔ مگر ان کا ذہن اس سوال میں اٹک گیا کہ اگر وہ کہیں کہ خدا صرف ایک ہے۔ بقیہ تمام دیوتا فرضی ہیں تو وہ اچانک تمام قبائل سے کٹ جائیں گے۔ اس کے بعد ان کی سرداری بھی چھن جائے گی اور ان کی معاش بھی۔

ٹھیک یہی صورت موجودہ زمانہ میں ہندوستانی مسلمانوں کی ہے۔ ان کے سامنے قرآن کی بات رکھی جائے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ قرآن کے مطابق یہی صحیح بات ہے ۔ مگر فورا ہی کچھ سوالات سامنے آکر انھیں اس کی طرف سے شبہ میں ڈال دیتے ہیں ۔ اگر ہم صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو ہندو ہمارے اوپر دلیر ہو جائے گا۔ اگر ہم سیاسی شور وغل نہ کریں تو ملک میں ہونے والے سیاسی عمل سے ہم کٹ جائیں گے، اگر ہم مطالبہ اور احتجاج کا طریقہ چھوڑ دیں تو ہم اپنے دستوری حقوق سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ وغیرہ اس قسم کی تمام باتیں بلاشبہ شیطانی وسوسہ ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page