مفتاح عظیم
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۲۶
مفتاح عظیم
ایک عربی پرچہ میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا: المفتاح العظیم (عظیم کنجی) اس میں بتایا گیا تھا کہ دعوتِ اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ماضی میں اسلام نے دعوت کو ذریعہ عالمی فتح حاصل کی تھی ، آج بھی ہم دعوت کے ذریعہ دوبارہ اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ اس پرچہ میں ایک اور چھ صفحات کا مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا: الاقليات المسلمة تواجه خطر الذوبان (مسلم اقلیتوں کے بھیڑیوں کے خطرہ کا سامنا)، اس مضمون میں۔ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، یہ دکھایا گیا تھا کہ جن ملکوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں اکثریتی فرقہ اور اکثریتی فرقہ کی حکومت ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کر رہی ہے، وہ ان کے ساتھ وحشی بھیڑیوں جیسا سلوک کر رہی ہے۔
یہ دونوں باتیں مذکورہ جریدہ کے ایک ہی شمارہ میں چھپی ئی تھیں ، حالاں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ وہ قومیں جن کو اس مضمون میں بھیڑیا (ذوبان کہا گیا ہے، وہ کون ہیں وہ وہی غیر مسلم قومیں ہیں جن کے اوپر ہمیں دعوت کا کام کرنا ہے۔ وہ ہمارے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ گویا "مسلم اقلیتیں" داعی ہیں اور ان کی پڑوسی غیر مسلم اکثریت مدعو ۔ اب اگر داعی کے دل میں یہ بٹھایا جائے کہ مدعو تمہارے لئے ظالم بھیڑیا ہے تو کیا وہ سچے داعیانہ جذبہ کے ساتھ اپنے مدعو کے اوپر دعوت کا عمل جاری کر سکتا ہے۔ کیا وہ انی لکم ناصح کی نفسیات کے ساتھ اس سے معاملہ کر سکتا ہے۔
دعوت سرتا سر محبت کا ایک عمل ہے۔ داعی کو آخر حد تک اپنے مدعو کی ہدایت کا حریص بننا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی دعوت کے عمل کا آغاز ہو ہوتا ہے۔ مدعو اگر زیادتی کرے تب بھی داعی اس کی زیادتیوں کو بھلا کر ایک طرفہ طور پر اس کو اپنی دلچسپی کا موضوع بناتا ہے۔ وہ اپنے مدعو کے رشتہ کا بہت سے امتیاز مادہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے دل سے ہر عید کے حق میں دعا کریں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues