ایک شہادت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۱
یہاں تک کہ دشمنِ خدا ابنِ ملجم نے ان کو قتل کر دیا (البدایہ والنہایہ ۶/۸) ’’خالی ہاتھ، پراگندہ بال اور غبار آلود ہونا‘‘ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دنیا سے آخری حد تک بے رغبت تھے اور آخرت کی طرف آخری حد تک متوجہ ہو چکے تھے۔ دین کی فکر میں وہ اس حد تک گم ہو چکے تھے کہ اہلِ دنیا اگر دیکھیں تو سمجھیں کہ یہ مجنون لوگ ہیں۔ ذکر اور عبادت اور تلاوت ان کی محبوب ترین چیز ہو چکی تھی۔ لمبے قیام میں انھیں تسکین ملتی تھی۔ ان کے طویل سجدوں کا نشان ان کی پیشانیوں پر نمایاں نظر آتا تھا، وہ اندر سے باہر تک خدا کے نور میں نہائے ہوتے تھے۔ ان کی زندگی تمام تر خدا کے لیے وقف ہو چکی تھی۔ ’’اللہ کی یاد کے وقت وہ اس طرح ہلتے جیسے درخت تیز ہوا میں ہلتا ہے۔ ‘‘ یہ اس کیفیت کا ذکر ہے جو تھر تھراہٹ کے وقت ان کے جسم کی ہوتی تھی۔ اللہ کی یاد ان کے سینے میں بھونچال کی طرح اٹھتی تھی۔ اس نے ان کی روح کے اندر ایک بجلی دوڑا جاتی اور ان کے جسم پر تھرتھری کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ وہ اللہ کے خوف سے بار بار کانپ اٹھتے تھے۔
’’ان کی آنکھیں آنسو بہاتیں اور ان کے کپڑے بھیگ جاتے‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے لیے خدا کا ذکر کوئی تلفظ لسانی کا عمل نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک قلبی عمل ہوتا تھا۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے چند الفاظ میں اصحابِ رسول کا جو خاکہ بتایا ہے، وہ نہایت کامل اور جامع خاکہ ہے۔ ان مختصر لفظوں میں اصحابِ رسول کی وہ تمام بنیادی صفات آجاتی ہیں جن سے وہ متصف تھے اور جنھوں نے ان کو پوری نسلِ انسانی میں انبیاء کرام کے بعد سب سے اونچا درجہ دیدیا۔ اصحابِ رسول بھی مومن تھے جس طرح دوسرے لوگ مومن ہوتے ہیں۔ مگر اصحابِ رسول کا ایمان ان کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ فیصلہ تھا۔ حتیٰ کہ اس نے انھیں دیوانہ بنا دیا۔ ان کا ایمان ان کے پورے وجود میں چمک اٹھا تھا۔ اللہ کی یاد ان کے لیے ایک روحانی زلزلے کے ہم معنی تھی۔ آخرت کو ماننا ان کے لیے ایک ایسی طوفان خیز حقیقت پر یقین کرنا تھا جو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بن کر بہہ نکلے۔
اصحابِ رسول تاریخ کے سب سے زیادہ زندہ انسان تھے اور تاریخ کی سب سے زیادہ انقلابی جماعت۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues