Al-Risala · September 1991 · page 13

والذین معه

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۳

اس آیت کے پہلے حصہ میں تورات کے حوالے سے صحابہ کی انفرادی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور اس کے دوسرے حصہ میں انجیل کے حوالے سے ان کی اجتماعی صفات۔

اصحاب رسول کی پہلی شخصی صفت یہ بتائی کہ وہ منکروں پر سخت ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پر ایمان نے ان کو ایک با اصول انسان بنا دیا ہے۔ جو لوگ دین خدا کے منکر ہیں یا بے اصول زندگی گزار رہے ہیں، ان کے ساتھ مصالحت کا معاملہ کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ ذاتی مفاد کی خاطر کبھی وہ بے اصولی کا رویہ اختیار نہیں کرتے۔

"وہ آپس میں مہربان ہیں" کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ اختلاف اور شکایت کے مواقع پیش آنے کے باوجود وہ ہمدردی اور مہربانی کے رویہ پر قائم رہتے ہیں۔ غیر اہل دین کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے اصولی ٹکراؤ کا مسئلہ پیش آتا ہے، وہاں وہ بالکل بے لچک ثابت ہوتے ہیں۔ اپنے ہم مذہب لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے شکایت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں، مگر وہ شکایتوں اور تلخیوں کو نظر انداز کر کے حسن سلوک کی روش پر قائم رہتے ہیں۔

"وہ رکوع اور سجدہ میں رہتے ہیں" یعنی وہ نماز قائم کرنے والے ہیں۔ ان کے دن اور ان کی راتیں اللہ کے آگے جھکنے میں اور اس کی عبادت گزاری میں بسر ہوتی ہیں۔

"وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کے طالب ہیں" یعنی ان کے لیے سب سے زیادہ محبوب و مطلوب چیز وہ ہے جو اللہ کے پاس ہے۔ وہ اللہ کی یاد میں، اور اللہ سے دعا و التجا میں اپنے لمحات گزارتے ہیں۔

"ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے" یعنی ان کے دل کا اللہ کے لیے جھکاؤ ان کے چہروں پر تواضع اور سنجیدگی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ خدا کے ساتھ گہری وابستگی ان کے چہروں پر ربانی جھلک کی صورت میں نظر آتی ہے ____ یہ ان کے انفرادی اوصاف ہیں۔

صحابہ کے انفرادی اوصاف کے ذکر کے بعد ان اوصاف کے اجتماعی انجام کو بیج کی مثال سے بتایا گیا ہے۔ بیج زمین میں بو دیا جائے تو وہ بڑھتے بڑھتے درخت بن جاتا ہے۔ اسی طرح مذکورہ اوصاف جب افراد انسانی میں پیدا ہو جائیں تو وہ بیرونی دنیا کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ یہ عمل جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس انقلاب تک پہنچ جاتا ہے جس کا کامل نمونہ اصحاب رسول کی صورت میں تاریخ میں قائم ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page