Al-Risala · September 1991 · page 27

اصحاب رسول

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۷

دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا آسمان اور زمین میں۔

لبید بن ربیعہ (م ۴۱ھ) عرب کے بڑے شاعروں میں سے تھے۔ وہ اصحابِ معلقات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے پوچھا کہ آپ نے شاعری کیوں چھوڑ دی۔ انھوں نے جواب دیا : ابعد القرآن (کیا قرآن کے بعد بھی)

حضرت لبید کا یہ قول آج بظاہر کوئی غیرمعمولی قول نظر نہیں آتا۔ کیونکہ آج لوگوں کے ذہنوں پر قرآن کی عظمت اتنی زیادہ چھائی ہوئی ہے کہ یہ بالکل ایک فطری بات معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص قرآن کے اعلیٰ ادب سے متاثر ہو کر شاعری کو چھوڑ دے۔ مگر اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جب کہ حضرت لبید نے ایسا کیا، اس وقت یہ ایک انتہائی غیرمعمولی بات تھی۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں قرآن کی حیثیت ایک عام کتاب کی سی تھی۔ اس وقت وہ لوگوں کے درمیان ایک نزاعی کتاب بنی ہوئی تھی، اس وقت تک قرآن کی پشت پر دہ واققاتی عظمتیں اور تاریخی صداقتیں جمع نہیں ہوئی تھیں جو آج اس کی پشت پر جمع ہو چکی ہیں۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جنھوں نے دورِ غفلت سے پہلے قرآن کو پہچانا۔ جنھوں نے اس وقت اپنے آپ کو اسلام کے لیے وقف کیا جب کہ اسلام ہر قسم کے مادی مفادات سے خالی تھا۔ جو اس وقت پیغمبر کے حامی بنے جب کہ پیغمبر کے نام پر کسی قسم کی قیادت نہیں ملتی تھی۔ جنھوں نے محرومی کی قیمت پر دینِ خداوندی کو اپنایا اور بے قدر ہو کر اس کی کامل قدردانی کی۔ انھوں نے ”بے اسلام“ میں اسلام کی تصویر دیکھی۔

اصحابِ رسول کا امتیازی مقام ان کے امتیازی عمل کی بنا پر ہے۔ ان کا یہ امتیازی عمل، ایک لفظ میں، یہ تھا کہ انھوں نے ساتھ نہ دینے والے حالات میں ساتھ دیا۔ اصحابِ رسول نے بے اعترافی کے حالات میں اعتراف کیا۔ انھوں نے ناقدری کے حالات میں قدردانی کی۔ انھوں نے التباس کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو پہچانا۔ انھوں نے بے عظمت چیز کو عظمت کے روپ میں دیکھا۔ انھوں نے وہاں بینا ہونے کا ثبوت دیا جہاں لوگ اندھے بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے وہاں سچائی کی آواز سنی جہاں کان والوں کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page