سیاسی بے غرضی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۵
مہاجرین (قریش) میں سے کسی شخص کو امیر بنایا جائے۔ یہ ایک بے حد انقلابی فیصلہ تھا جس کی معلوم انسانی تاریخ میں کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔
انصار پہلے اس معاملہ کو صرف ’’مدینہ‘‘ کے حالات کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے ، اب انھوں نے اس معاملہ کو پورے ملک کے نقطہ نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ ان کے بے لاگ ذہن اور حقیقت پسندانہ مزاج نے انھیں بتایا کہ مدینہ میں اگر چہ مقامی طور پر انصار کو سب یادت حاصل ہے مگر وسیع تر سطح پر پورا عرب کسی قریشی سردار ہی کی سرداری قبول کر سکتا ہے۔ انصار نے اس معاملہ کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ یا سیاسی حق تلفی کا مسئلہ نہیں بنایا۔ چنانچہ انھوں نے فوراً حضرت ابو بکر کی تجویز کو مان لیا۔ عرب میں اسلام کو جو غلبہ حاصل ہوا اس میں بلاشبہ انصار کا بہت بڑا حصہ تھا۔ اس میں ان کی عظیم قربانیاں شامل تھیں۔ ایسی حالت میں یہ عین فطری تھا کہ غلبہ حاصل ہونے کے بعد انصار یہ چاہیں کہ امیر المومنین کا عہدہ ان کے پاس ہو یا کم از کم اقتدار میں قابلِ لحاظ حد تک انھیں شریک کیا جائے۔ چنانچہ ایک انصاری نے جب دیکھا کہ امیر کا عہدہ انصار کو دینے پر اختلاف ہے تو اس نے کہا کہ ایک امیر تم میں سے ہو اور ایک امیر ہم میں سے (منا امیر ومنکم امیر) مگر وسیع تر مصالح کو جاننے کے بعد تمام انصار مہاجرین (قریش) کی امارت پر راضی ہو گئے۔ وہ اس پر راضی ہو گئے کہ سیاسی قیادت کا عہدہ یک طرفہ طور پر مہاجرین کو دے دیا جائے، اور انصار کا اس میں کوئی حصہ نہ ہو۔ کسی نظام کو چلانے کے لیے اس قربانی کی بے حد اہمیت ہے۔ مگر یہ قربانی صرف وہی لوگ دے سکتے ہیں جو اپنے اندر سیاسی بے غرضی کی صفت رکھتے ہوں۔ انصار نے اس نادر صفت کا ثبوت دیا۔ اگر ان کے اندر سیاسی بے غرضی کی یہ غیر معمولی صفت نہ ہوتی تو پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد انصار اور مہاجرین میں ٹکراؤ شروع ہو جاتا۔ اسلام کی تاریخ بننے سے پہلے ہی مدینہ میں دفن ہو جاتی۔ مگر انصار نے اپنے سیاسی حق سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہو کر اسلام کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا۔ تحریک اپنے آغاز میں ہو تو اس میں عہدہ کی کشش نہیں ہوتی۔ مگر جب وہ کامیابی کے مرحلہ میں پہنچتی ہے تو اس میں عہدہ اور اقتدار کی کشش شامل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہر تحریک میں کامیابی کے بعد مناصب کی رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے۔ اصحاب رسول تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جو عظیم کامیابی کے مرحلہ تک پہنچے مگر انھوں نے مناصب کو دوسروں کے حوالے کر کے اپنے لیے بے منصب حیثیت قبول کر لی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues