مخلصانہ ایمان
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴
مخلصانہ ایمان
عن زید بن ارقم رضی اللہ عنه مقال زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے دہ قال لا اله الا الله مخلصا دخل الجنة۔ جنت میں جائے گا۔ کہا گیا کہ اس کا اخلاص کیا ہے۔ آپ قيل وما اخلاصها ۔ قال أن تحجزه عن نے فرمایا۔ یہ کہ یہ کلمہ اس کو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں محارم الله (الترغيب والترهيب) سے روک دے۔
اخلاص اسی کیفیت کے لیے ایک دینی لفظ ہے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں سنجیدگی کہا جاتا ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو جان لے کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہ فی الواقع پوری سنجیدگی کے ساتھ اس کا اقرار کرے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی زندگی اور اس کے قول و عمل میں اس کا اظہار ہونے لگے گا۔ سنجیدہ قول اور اس کے عملی اختیار میں کوئی فرق نہیں۔
ایک شخص جب یہ کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، تو وہ حقیقۃ اپنی اس دریافت کو بیان کرتا ہے کہ اس کائنات میں ساری عظمتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ اللہ کو اس کی تمام شان عظمت کے ساتھ جان لینے کے بعد آدمی کے اندر جو کیفیت ابھرتی ہے اسی کا نام اخلاص ہے۔
آدمی جب اللہ کو اس کے جلال و کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اپنے عجز اور اپنے احتیاج کو بھی دریافت کر لیتا ہے۔ یہ دریافت اس کے اندر عبدیت کا جذبہ ابھارتی ہے۔ وہ خدا کی نعمتوں کو جان کر شکر و سپاس کی کیفیت سے سرشار ہو جاتا ہے۔ موت کے بعد خدا کے سامنے حاضری کا تصور اس کو اپنے قول وعمل کے بارہ میں آخری حد تک چوکس بنا دیتا ہے۔ ان کیفیات کے مجموعہ کا نام اخلاص ہے، اور ان کے زیر اثر جو انسان بنتا ہے اسی کا نام مخلص انسان ہے۔
اس نوعیت کا اخلاص جب کسی آدمی کے اندر پیدا ہو تو اس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کے احکام کی خلاف ورزی کرے، وہ خدا کی منع کی ہوئی چیزوں کو اپنے لیے حلال کر لے۔ ایک سچے انسان کے لیے قول اور عمل میں کوئی فرق نہیں جو شخص سچے دل سے اللہ کی معبودیت کا اقرار کرے گا، اس کے بعد ناممکن ہے کہ اس کا عمل اس کے اقرار کے تابع نہ ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues