ایک اور آواز
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۰
ایک اور آواز
جب ایک انسان بول رہا ہو اور آپ اس کی بات سن رہے ہوں تو یہ کوئی سادہ واقعہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک انتہائی انوکھا واقعہ ہوتا ہے جو ہماری زمین پر پیش آتا ہے۔ ایک شخص کا بولنا اور دوسرے شخص کا سننا اپنے اندر اتنی زیادہ نشانیاں رکھتا ہے کہ آدمی اگر اس پر سوچے تو وہ حیرت کے سمندر میں غرق ہو جائے ۔
ایسا عجیب واقعہ کیوں ہوتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے تاکہ انسان ایک عظیم تر حقیقت کو محسوس کر سکے۔ وہ انسانی کلام کے ذریعہ خدائی کلام کو اپنے تصور میں لائے ۔
جس طرح ایک انسان بولتا ہے اور آپ سنتے ہیں۔ اسی طرح خدا بھی بول رہا ہے۔ وہ بھی انسانوں سے ہم کلام ہے۔ جو شخص انسان کی بات سنے مگر وہ خدا کی بات نہ سنے وہ بہرا ہے۔ آدمی کو کان اس لیے دیئے گئے تھے کہ وہ خدا کی بات سننے والا بنے۔ مگر اس کا حال یہ ہوا کہ انسانوں کی بات اس کو سنائی دی، مگر خدا کی بات اس کو سنائی نہ دی۔ ایسا شخص یقیناً بہرا ہے، اس کے بہرا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ خواہ بظاہر وہ کان والا کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔
انسان کی ہر چیز خدا کے لیے ہے۔ اس کو کان اس لیے دیئے گئے تھے کہ وہ خدا کی بات سنے۔ کان کے اندر دوسری آوازوں کو سننے کی صلاحیت صرف اس لیے دی گئی تھی کہ اس کو قریبی تجربہ سے معلوم ہو جائے کہ وہ ” سننے" کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر جو چیز صرف ابتدائی تجربہ کے لیے تھی۔ اسی کو اس نے آخری تجربہ سمجھ لیا۔ وہ راستہ میں اٹک کر رہ گیا ، وہ اصل منزل تک نہیں پہونچا۔
انسان کی بات کو سننا اور خدا کی بات کو نہ سننا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص پھل کا چھلکا کھائے اور اس کا مغز پھینک دے۔ وہ دئے کی روشنی کو روشنی سمجھے ، مگر سورج کی روشنی کا روشنی ہونا اس کے لیے لا معلوم بنار ہے۔
ایسا آدمی بلاشبہ اندھا ہے، خواہ اس کے سر پر دو آنکھیں موجود ہوں۔ خواہ دنیا کے رجسٹر میں اس کا نام دیکھنے والوں کی فہرست میں لکھا ہوا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues