What will Ramrajya mean to female.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۷
ایک آیت
قرآن کی سورہ نمبر ۴۵ میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ خدائے عزیز و حکیم کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے۔ اور زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی نشانیاں اس کی تصدیق کر رہی ہیں۔ مگر جن لوگوں کے اندر گھمنڈ کا مزاج ہو، وہ اس سے نصیحت لینے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کہا گیا ہے :
وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیَاتِنَا شَئْيًا اتَّخَذَهَا اور جب اس کو ہماری آیتوں میں سے کسی چیز کا علم ہوتا هُزُوًا اُولٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ ہے تو وہ اس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے (الجاثيه (۹) سخت ذلت کا عذاب ہے۔
قرآن کی آیتوں میں ”چیز“ کو پفَأَنَا اور اس کو لے کر قرآن کا مذاق اڑانا کیا ہے ، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں بتایا گیا کہ جہنم کے اوپر ۱۹ فرشتے ہوں گے (المدثر (۳۰) یہاں منکرین نے یہ کہا کہ ساری باتوں کو چھوڑ کر صرف ”۱۹“ کے عدد کو لے لیا اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک پہلوان نے کہا کہ اگر وہ صرف انیس ہیں تو میں اکیلا ہی ان کو گرادوں گا (إن كانوا تسعة عشر انا القاهم وحدي) الجامع لاحكام القرآن للقرطبی، ۱۵۹/۱۶۔
بے حس اور منکر لوگ عام طور پر سچائی کو نہ ماننے کے لیے یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ آیات کو چھوڑ کر ششی کو لے لیتے ہیں۔ وہ حقائق کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور شوشہ کو لے کر صاحب حق کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں بدترین مجرم ہیں ۔
حق کو ماننا ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ حق کو ماننے کے لیے آدمی کو اپنی رائے بدلنا پڑتا ہے۔ اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی خواہش کو کچلے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بڑائی کے مقام سے اتارے اور اپنے آپ کو چھوٹا بنانے پر راضی ہو جائے۔ اس جہاد عظیم کے لیے آدمی تیار نہیں ہوتا۔ اسی کے ساتھ وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کو منکر حق کہا جائے ۔ اس لیے وہ حق کے پیغام میں شوشہ نکال کر اس کا ۔ استہزاء کرتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ جس چیز کو وہ نہیں مان رہا ہے وہ اسی قابل ہے کہ اس کو نہ مانا جائے۔ جو لوگ خدائی صداقت کو رد کریں وہ خود آخرت میں رد کر دیئے جائیں گے ۔ اور جن لوگوں کو خدا رد کر دے ان کے لیے بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues