دینِ فطرت
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۹
دینِ فطرت
خورشید بمل صاحب (پیدائش ۱۹۴۷) سے ۲۲ جون ۱۹۹۱ کو دہلی میں ملاقات ہوئی۔ وہ جموں کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے کئی سبق آموز واقعات بتائے۔
انھوں نے بتایا کہ ضلع راجوری میں ایک مقام کالا کوٹ ہے۔ یہاں ایک صاحب راجہ رام شرما ہیں۔ اس وقت وہ محکمہ تعلیم میں ڈسٹرکٹ پلاننگ افسر ہیں۔ ان کے پاس ایک آدمی ان کی گائے خریدنے کے لیے آیا۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس گائے تو ہے ، مگر اس کو حال میں باولے کتے نے کاٹ لیا ہے۔ اگر آپ یہ جاننے کے بعد بھی خریدنا چاہیں تو آپ اس کو خرید سکتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد پاکستان ٹی وی دیکھتے ہوئے شرما صاحب نے ایک حدیث کا مضمون سنا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ مسلمان وہ ہے جو تجارت کے وقت اپنے سودے کی خرابی سے گاہک کو آگاہ کردے۔ شرما صاحب کو یہ پروگرام سن کر اپنا گائے کا واقعہ یاد آیا۔ انھوں نے کہا : اس لحاظ سے تو میں بھی مسلمان ہوں۔ یہ حدیث سنن ابن ماجہ میں ہے۔ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں : عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ واثلہ بن اسقع کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ بَاعَ عَيْبًا علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس آدمی نے عیب دار لَمْ يُبَيِّنْهُ لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ اللَّهِ أَوْ لَمْ تَزَلِ چیز بیچی اور خریدار کو اس کے عیب سے آگاہ نہیں المَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ . کیا تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے ، یا فرشتے (مشکاة المصابیح ۸۶۹/۲) برابر اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کوئی اجنبی چیز نہیں۔ اسلام دینِ فطرت ہے۔ ہر آدمی جس فطرت پر پیدا کیا گیا ہے ، اسی کو اسلام الفاظ کی صورت دیدیتا ہے۔ اگر باہمی نفرت اور قومی جھگڑوں کی فضا ختم کر دی جائے اور اسلام کی نمائندگی کرنے کے لیے صرف قرآن اور حدیث لوگوں کے سامنے ہو تو بے شمار آدمی اسلام کو عین اپنے دل کی آواز سمجھیں گے اور اس کو اس طرح اپنا لیں گے جیسے کہ وہ خود ان کی اپنی چیز تھی جو کچھ عرصہ گم رہنے کے بعد دوبارہ انھیں واپس مل گئی۔ دینِ فطرت اپنے آپ میں ایک طاقت ہے۔ اس کو کسی مزید طاقت کی ضرورت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues