محنت کے ذریعہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۰
محنت کے ذریعہ
باپسی سدھوا (Bapsi Sidhwa) ایک پارسی خاتون ہیں۔ وہ پاکستان (لاہور) کی رہنے والی ہیں۔ آج کل وہ ٹیکساس (امریکہ) کی یونیورسٹی آف ہاؤسٹن میں استاد ہیں۔ انگریزی زبان میں ان کی لکھی ہوئی کتابیں (ناولیں) انٹرنیشنل سطح کے پبلشنگ اداروں میں چھپتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ باپسی سدھوا کی رسمی تعلیم بالکل نہیں ہوئی۔ وہ اپنے وطن لاہور کے ایک اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کر رہی تھیں کہ ان کو پولیو کی بیماری ہو گئی۔ ان کے والدین نے ان کے لیے باضابطہ تعلیم کو نا ممکن سمجھ کر ان کو اسکول سے اٹھا لیا۔ اس کے بعد وہ ٹیوٹر کے ذریعہ اپنے گھر پر پڑھنے لگیں۔ مگر ٹیوٹر کا سلسلہ بھی بہت زیادہ دن تک باقی نہیں رہا۔ اب باپسی سدھوا کا شوق ان کا رہنما تھا۔ وہ خود سے پڑھنے لگیں۔ وہ ہر وقت انگریزی کتابیں پڑھتی رہیں۔ اپنے الفاظ میں ، وہ کبھی سیر نہ ہونے والی قاری (Voracious reader) بن گئیں۔ آخر انھوں نے اپنی محنت سے یہ درجہ حاصل کر لیا کہ وہ انگریزی میں مضامین لکھنے لگیں۔ مگر دو سال تک یہ حال تھا کہ انھیں اپنے بھیجے ہوئے مضمون کے جواب میں صرف انکاری تحریریں (Rejection slips) ملتی تھیں۔ ان کی پہلی کتاب کا مسودہ آٹھ سال تک ان کی الماری میں پڑا ہوا گرد آلود ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ ان پر مایوسی کے دورے پڑنے لگے۔
آخر کار حالات بدلے۔ ان کے مضامین باہر کے میگزینوں میں چھپنے لگے۔ اب وہ عالمی سطح پر پڑھی جانے والی انگریزی رائٹر بن چکی ہیں۔ رسمی ڈگری نہ ہونے کے باوجود وہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں تخلیقی تحریر (Creative writing) کا مضمون پڑھا رہی ہیں (ٹائمز آف انڈیا ۲۵ فروری ۱۹۹۰ حقیقت یہ ہے کہ تمام علوم محنت کی درسگاہ میں پڑھائے جاتے ہیں۔ تمام ترقیاں محنت کی قیمت دے کر حاصل ہوتی ہیں۔ اور محنت وہ چیز ہے جو ہر آدمی کو حاصل رہتی ہے۔ حتیٰ کہ اس آدمی کو بھی جس کو بیماری نے معذور بنا دیا ہو، جو کالج اور یونیورسٹی کی ڈگری لینے میں ناکام ثابت ہوا ہو۔
محنت ایک ایسا سرمایہ ہے جو کبھی کسی کے لیے ختم نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues