احتساب غیر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۱۵
احتساب غیر
ڈاکٹر ذاکر حسین (۱۹۴۹ء - ۱۹۷۸ء) نے ایک بار بتایا کہ جب وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں وائس چانسلر بن کر آئے تو یونیورسٹی کے کچھ لوگ ان سے ملے اور کہا کہ یونیورسٹی میں کئی اسٹاف ممبر رجعت پسند اور فرقہ پرست ہیں۔ ان کی وجہ سے یونیورسٹی بدنام اور تباہ ہو رہی ہے۔ اگر ان سب لوگوں کو نکال دیا جائے تو اس کے بعد یونیورسٹی کی فضا بالکل درست ہو جائے گی۔ ذاکر صاحب نے کہا کہ آپ ایسے لوگوں کی فہرست بنا کر مجھے دیجیے۔
پھر کچھ دوسرے لوگ ذاکر صاحب سے ملے۔ انھوں نے دوبارہ کہا کہ یونیورسٹی کے کئی استاد کمیونسٹ اور دہر یہ ہیں۔ ان کو آپ یہاں سے نکال دیں تو اس کے بعد یونیورسٹی کی فضا بالکل صحیح ہو جائے گی۔ ذاکر صاحب نے ان سے بھی کہا کہ آپ مذکورہ افراد کی فہرست بنا کر مجھے دیدیں۔ دونوں صاحبان کی طرف سے فہرستیں بن کر آگئیں۔ اس زمانہ میں مسلم یونیورسٹی میں تقریباً تین سو آدمیوں کا ٹیچنگ اسٹاف تھا۔ جب کہ دونوں فہرستوں میں دو سو نام درج تھے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا: ’’میں حیران ہوں کہ آخر تین سو آدمیوں میں سے چار سو آدمیوں کو کیسے نکال دوں! ‘‘ دونوں فہرستوں کو ملا کر جانچا گیا تو معلوم ہوا کہ تقریباً پچاس نام ایسے ہیں جو دونوں فہرستوں میں مشترک طور پر موجود ہیں۔ ذاکر صاحب نے کہا کہ بتائیے، اگر میں ان سب کو نکال دوں تو پھر یونیورسٹی میں کون رہ جائے گا جو یہاں بچوں کو پڑھائے (الجمعیتہ، دہلی، ۲۸ جون ۱۹۸۰ء)
یہ واقعہ قوم کی اخلاقی حالت کو بتا رہا ہے ۔ آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک دوسروں کے بارہ میں سوچنے کا بادشاہ ہے۔ کوئی شخص اپنے بارہ میں سوچنے کے لیے تیار نہیں۔ ہر ایک کے پاس بیرونی غلط کاروں کی لمبی لمبی فہرستیں ہیں۔ مگر خود اپنی غلط کاری کی فہرست کسی کے پاس بھی نہیں ۔ کسی قوم کے افراد میں احتساب خویش کا مزاج ہو تو اس کے تمام معاملات درست رہتے ہیں۔ اور جس قوم کے افراد میں احتساب غیر کا مزاج پیدا ہو جائے ، اس کے تمام معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔ احتساب خویش کے مزاج سے دنیا بھی درست ہوتی ہے اور آخرت بھی۔ احتساب غیر کا مزاج دنیا کو بھی بگاڑ دیتا ہے اور آخرت کو بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues