Al-Risala · March 1992 · page 20

رمضان کا مہینہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۲۰

رمضان کا مہینہ

بخاری اور مسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو باندھ دیا جاتا ہے۔ یہی بات ترمذی اور ابن ماجہ میں اس طرح آئی ہے کہ جب رمضان کے مہینہ کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور آگ کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے، پس اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے، پس اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔ اور پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے خیر کو چاہنے والے آگے آ ، اور اے شر کو چاہنے والے رک جا۔ اور اللہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے۔ اور ایسا ہی ہر رات کو ہوتا ہے۔

شیطان کا باندھا جانا فرد کی نسبت سے ہے نہ کہ عمومی طور پر تمام لوگوں کی نسبت سے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا بھر کے تمام شیطان ایک مہینہ کے لئے مکمل طور پر بندھ جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینہ میں شیاطین اس فرد کی نسبت سے باندھ دئے جاتے ہیں جو صحیح معنوں میں روزہ دار ہو۔ جو تمام آداب و شرائط کے ساتھ روزہ کا اہتمام کرے ۔ رمضان کے مہینہ میں ایسے روزہ دار شخص کے اوپر شیطان غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔

اس حدیث میں بظاہر صوم“ کی بات کہی گئی ہے ، مگر در اصل وہ ”صائم“ کی بات ہے۔ اس میں اس انسان کا ذکر ہے جو روزہ سے یہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ ہو، حدیث کے الفاظ میں، روزہ کو اپنے لئے ڈھال بنا لے۔

جب رمضان کا مہینہ آتا ہے اور ایک بندہ مومن اللہ کی خاطر اس کے روزے رکھتا ہے تو اس کو تقویٰ کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس عمل کے دوران اس کے اندر اعلیٰ قسم کی روحانی کیفیات ابھرتی ہیں جو آدمی کو ان فائدوں کا مستحق بنا دیتی ہیں جس کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے۔

قرآن میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو، تمہارے اوپر رمضان کا روزہ فرض کیا گیا جس طرح پچھلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو (البقرہ ۱۸۳)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page