Al-Risala · March 1992 · page 23

زیر طبع کتابیں

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۲۳

نزولِ قرآن کے مہینہ میں قرآن کو پڑھتے ہوئے آدمی کو وہ لمحہ یاد آتا ہے جب کہ آسمان اور زمین کے درمیان نورانی اتصال قائم ہو۱۔ اس کو یاد کر کے وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا، تو میرے سینہ کو بھی اپنی تجلیات سے روشن کر دے۔ قرآن میں وہ ان سعید روحوں کی بابت پڑھتا ہے جنہوں نے مختلف وقتوں میں ربانی زندگی گزاری۔ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا، تو مجھ کو بھی اپنے ان پسندیدہ بندوں میں شامل فرما۔ قرآن میں وہ جنت اور جہنم کا تذکرہ پڑھتا ہے۔ اس وقت اس کی روح سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ خدایا، مجھے جہنم سے بچالے اور مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔

اس طرح قرآن اس کے لیے ایک ایسی کتاب بن جاتا ہے جس میں وہ جئے۔ جس سے وہ اپنے لیے رزق حاصل کرے۔ جس کے نورانی سمندر میں غسل کر کے وہ پوری طرح پاک ہو جائے۔ قرآن بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے، اور روزہ بندے کی طرف سے اس انعام کا عملی اعتراف۔ روزہ کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو شکر گزاری کے قابل بناتا ہے۔ وہ ایک غیر معمولی خدائی حکم کی تعمیل کر کے خدا کی برتری کے احساس کو اپنے اوپر طاری کرتا ہے۔ روزہ کے کورس سے گزر کر وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق وہ دنیا میں متقیانہ زندگی گزار سکے۔

روزہ ایک مخصوص عمل ہے۔ اس سے آدمی کے دل میں نرمی اور شکستگی آتی ہے۔ اس طرح روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر لطیف نفسیات کو جگائے۔ وہ ان کیفیتوں کو احساس کی سطح پر پا سکے جو اللہ کو اپنے بندوں سے اس دنیا میں مطلوب ہیں۔ روزہ کا پر مشقت تجربہ آدمی کو مادی سطح سے اٹھا کر روحانی سطح کی طرف لے جاتا ہے۔ روزہ ایک قسم کی تربیت ہے جس سے آدمی کے اندر یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ تڑپ کی سطح پر خدا کا عبادت گزار بنے۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اللہ کی شکر گزاری میں اس کا سینہ تڑپے۔ اور اللہ کی پکڑ کے خوف سے اس کے اندر کپکپی پیدا ہو۔

زیر طبع کتابیں

ا۔ ڈائری جلد اول ۸۴-۱۹۸۲ - ۱۹۸۲ ۲۔ ڈائری جلد دوم ۸۶-۱۹۸۵ - ۱۹۸۵ ۳۔ سفر نامہ : ملکی اسفار ۴۔ سفر نامہ : غیر ملکی اسفار

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page