Al-Risala · January 1992 · page 13

مٹھاس کا اضافہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۳

اگر آپ کچھ پانا چاہتے ہیں تو دنیا میں ”عطیہ کارڈ“ لے کر نکلئے ۔ اگر آپ ”مطالبہ کارڈ“ لے کر نکلے تو یہاں آپ کو کچھ ملنے والا نہیں۔

۲۴ اگست ۱۹۸۸ء کو مسٹر پی ڈی ملہوترا (پیدائش ۱۹۳۵ء) سے ملاقات ہوئی۔ وہ ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی میں تقریباً ۳۰ سال سے پبلی کیشنز منیجر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک روز مجھے دفتر میں دیر ہوگئی۔ گھر جانے کے لیے باہر نکلا تو رات کے بارہ بج چکے تھے۔ میں اپنے اسکوٹر پر چلتے ہوئے ایک سڑک پر پہنچا تو وہاں پولیس کے آدمی نے مجھے روک دیا۔ اس نے کہا کہ اپنا ڈرائیونگ لائسنس دکھاؤ۔ مسٹر ملہوترا نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ڈرائیونگ کارڈ کے ساتھ ایک اور کارڈ نکل آیا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں دونوں کارڈ لیتے ہوئے پوچھا کہ یہ دوسرا کارڈ کیا ہے۔ یہ دراصل آنکھ کے عطیہ کا کارڈ (Eye Donor Card) تھا۔ اس کارڈ پر آدمی کے دستخط کے ساتھ اس کی طرف سے یہ الفاظ درج ہوتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھیں قوم کو عطیہ دی ہیں۔ براہ کرم میری موت پر سب سے قریب کے آنکھ کے اسپتال کو فوراً اطلاع کر دیں۔ اور میری خواہش کو پورا کرنے میں ان کی مدد کریں۔ شکریہ : I have gifted my eyes to the nation. Kindly inform the nearest Eye Bank immediately on my demise and help them no fulfil my desire. Thanks. پولیس کا آدمی پہلے بہت رُکھائی کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ مگر آنکھ کے عطیہ کا کارڈ دیکھتے ہی اس کا لہجہ بدل گیا۔ اس نے مزید جانچ کیے بغیر کہا کہ ” جائیے ، جائیے “۔

آنکھ کا عطیہ موجودہ زمانہ میں ایک شریفانہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ ٹی وی پر اس کی اپیل ان جذباتی لفظوں میں آتی ہے : ” دنیا میں ایک ہی چیز ہے جو صرف آپ کسی کو دے سکتے ہیں“۔ پولیس والے نے جب مسٹر ملہوترا کے پاس آنکھ کے عطیہ کا کارڈ دیکھا تو وہ سمجھا کہ یہ ایک شریف اور ہمدرد انسان ہیں۔ آنکھ کے عطیہ کا کارڈ مسٹر ملہوترا کے لیے اس بات کی پہچان بن گیا کہ وہ دوسروں کو دینے والے آدمی ہیں۔ اس چیز نے پولیس کے دل کو ان کے حق میں نرم کر دیا۔

اس دنیا میں دینے والے کو دیا جاتا ہے جو دوسروں کو دے وہ دوسروں سے پاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس وقت بھی پانے کا مستحق بن جاتا ہے جب کہ اس نے ابھی عملاً دیا نہ ہو، اس نے ابھی صرف دینے کا ارادہ کیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page