روزہ کا پیغام
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۲۶
روزہ کا پیغام
روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا تعلق تمام تر روزہ دار کی اپنی ذات سے ہے۔ روزہ رکھنے والا آدمی خود اپنی ذات کو مشقت میں ڈالتا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو بھوک اور پیاس میں مبتلا کرتا ہے۔ روزہ ہر اعتبار سے ایک ذاتی عمل ہے۔ اس طرح روزہ پورے دین کی حقیقت کو بتاتا ہے۔ روزہ اس بات کا سبق ہے کہ عمل کا آغاز اپنے آپ سے ہوتا ہے نہ کہ دوسروں سے۔
دین پورا کا پورا ایک ذاتی عمل ہے۔ مگر روزہ میں دین کی یہ حقیقت آخری حد تک نمایاں ہوگئی ہے۔ روزہ ایک اعتبار سے ایک انفرادی عبادت ہے۔ اسی کے ساتھ وہ علامتی طور پر پورے دین کا تعارف ہے۔ سچا روزہ دار وہی ہے جو روزہ رکھ کر روزہ کی اس حقیقت کو پالے۔ روزہ کا آغاز رمضان کے چاند سے ہوتا ہے۔ آدمی جب آسمان پر ہلالِ رمضان کو دیکھتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا خدا آسمانی اشارہ کی زبان میں اس سے ہم کلام ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ میرے بندے، تو اپنے آپ کو میرے تابع کر دے۔ میں تیرے عمل کو بڑھاؤں گا، یہاں تک کہ وہ ہلال" سے بڑھ کر "بدر" بن جائے۔
پھر آدمی جب پہلی رمضان کو کھانا اور پانی چھوڑ دیتا ہے تو گویا وہ زبان حال سے کہتا ہے کہ خدایا، میں تیرے حکم کا پابند ہوں، اگرچہ میں نے تجھ کو نہ دیکھا ہو۔ میں اپنے آپ کو تیری مرضی کے حوالے کرتا ہوں، اگر چہ میں نے تیری مرضی کو صرف کتاب کے الفاظ میں پڑھا ہو، اگرچہ کوئی فرشتہ مجھ کو مجبور کرنے کے لیے میرے پاس موجود نہ ہو۔
اس کے بعد سارے دن اس کو بھوک لگتی ہے اور پیاس ستاتی ہے۔ مگر وہ کھانے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ اس کے معمولات ٹوٹتے ہیں مگر وہ کوئی شکایت نہیں کرتا۔ اس طرح وہ ظاہر کرتا ہے کہ میں خدا کا صابر بندہ بنوں گا۔ میں ہر حال، میں خدا کے حکم کا پابند رہوں گا خواہ اس کو صبر و برداشت کی آخری سطح پر جا کر انجام دینا پڑے۔
عام دنوں میں مسلمان کو ناجائز چیزوں سے رکنا پڑتا ہے۔ روزہ کے دنوں میں وہ جائز چیز کو لینے سے بھی رک جاتا ہے۔ یہ گویا اطاعت خداوندی کے جذبہ کو مزید پختہ کرنا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues