Al-Risala · March 1992 · page 42

روزہ اور عید

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۴۲

رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے فوراً بعد عید کا دن آتا ہے۔ یہ ترتیب بہت با معنی ہے۔ یہ گویا مومن کی زندگی کے دومرحلوں کا علامتی تعارف ہے۔

روزہ ہماری دنیا کی زندگی کی علامت ہے اور عید ہماری آخرت کی زندگی کی علامت۔ روزہ گویا امتحان ہے اور عید اس کا انجام۔ روزہ پابندیوں کا مرحلہ ہے اور عید آزادی کا مرحلہ۔ روزہ مشقت اور محنت کا دور ہے اور عید آرام اور خوشی کا دور۔

روزہ میں صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک کی ساری زندگی طرح طرح کی پابندیوں میں گزرتی ہے۔ یہ کرو اور وہ نہ کرو، اس وقت کھاؤ اور اُس وقت نہ کھاؤ، کب سوؤ اور کب بستر سے اٹھ جاؤ۔ غرض پورا ایک مہینہ اس طرح گزارا جاتا ہے گویا کہ آدمی کی پوری زندگی دوسرے کے قبضہ میں ہے۔ آدمی کو اپنی مرضی پر نہیں بلکہ دوسرے کی مرضی پر چلنا ہے۔ اس طرح روزہ آدمی کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کی نگرانی میں دئے ہوئے ہو، وہ ہر معاملہ میں خدا کے حکموں کی پابندی کر رہا ہو۔

اس طرح کے ایک پر مشقت مہینہ کے بعد عید کا دن آتا ہے۔ عید کے دن اچانک تمام حکام بدل جاتے ہیں۔ پہلے روزہ رکھنا فرض تھا، اب روزہ رکھنا حرام ہے۔ پہلے لازمی ضرورتوں تک پر پابندی لگی ہوئی تھی، اب کہہ دیا گیا کہ آزادی سے گھومو پھرو اور خوشیاں مناؤ۔ حتیٰ کہ غریبوں کے لئے صاحب حیثیت لوگوں پر صدقہ فطر مقرر کیا گیا تاکہ وہ بھی آج کے دن کی خوشیوں سے محروم نہ رہیں۔ یہ گویا آخرت کی زندگی کی ایک تصویر ہے۔ یہ اس دن کو یاد دلانا ہے جب کہ خدا کے سچے بندوں پر سے ہر قسم کی پابندیاں اٹھالی جائیں گی۔ وہ ابدی آرام اور ابدی خوشی کی جنتوں میں داخل کر دئے جائیں گے، خواہ آج وہ ظاہر بینوں کو کمزور اور بے قیمت کیوں نہ نظر آتے ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ روزہ اور عید ہماری زندگی کے دو مرحلوں کی یاد دلانے کے لئے ہیں۔ روزہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے مرحلہ میں ہمیں کس طرح رہنا ہے۔ اور عید ہم کو بتاتی ہے کہ آخرت کے آنے والے مرحلہ میں ہماری زندگی کیسی زندگی ہوگی۔ ایک دنیا کی زندگی کی ابتدائی علامت ہے اور دوسری آخرت کی زندگی کی ابتدائی علامت۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page