Al-Risala · January 1992 · page 15

مستقبل پر نظر

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۵

آج ‘‘کا صحیح مصرف آج کو قربان کرنا نہیں ، بلکہ آج کو استعمال کرنا ہے۔ جو لوگ اس حکمت کو جانیں وہی اس دنیا میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ اچھا سپاہی جنگ کے پہلے ہی دن لڑ کر مر نہیں جاتا، بلکہ وہ زندہ رہتا ہے تاکہ اگلے دن وہ دشمن سے لڑ سکے :

A good soldier lives to fight for the second day. یہ قول صرف معروف قسم کی بڑی بڑی جنگوں کے لئے نہیں ہے۔ وہ روزانہ پیش آنے والے عام مقابلوں کے لیے بھی ہے۔ اگر کسی کے ساتھ آپ کی ان بن ہو جائے اور آپ فوراً ہی اس سے آخری لڑائی لڑنے کے لیے کھڑے ہو جائیں تو آپ ایک "برے سپاہی‘‘ ہیں ۔ آپ اپنی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر حالات میں آدمی ‘‘پہلے دن‘‘ زیادہ موثر لڑائی لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ اس لیے عقل مند وہ ہے جو پہلے دن لڑائی کو اوائڈ کرے ۔ وہ لڑائی کے میدان سے ہٹ کر اپنے آپ کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی کوشش کرے۔ تاکہ یا تو اس کے مقابلہ میں اس کا حریف اتنا کمزور ہو جائے کہ وہ لڑائی کے بغیر ہتھیار ڈال دے ۔ یا وہ خود اتنا طاقت ور ہو جائے کہ وہ ہر معرکہ کو کامیابی کے ساتھ جیت سکے۔

اس اصول کی بہترین مثال اسلام کی تاریخ ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیغمبرانہ مدت کا نصف سے زیادہ حصہ مکہ میں گزارا۔ یہاں آپ کے مخالفین نے ہر قسم کا ظلم کیا۔ مگر آپ نے ان سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ آپ ایک طرفہ طور پر صبر کرتے رہے۔ مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد جب پھر انھوں نے ظلم کیا تو آپ نے اپنی فوج کو منظم کر کے ان سے جنگ کی ۔ اس کے بعد دوبارہ آپ حدیبیہ کے موقع پر جنگ سے رک گئے ، اس کے بعد جلد ہی وہ وقت آیا کہ دشمن نے کسی لڑائی کے بغیر ہتھیار رکھ کر اپنی شکست مان لی۔

‘‘پہلے دن آپ نے دشمن کے خلاف صبر کیا۔ ‘‘دوسرے دن‘‘ آپ نے دشمن سے مسلح مقابلہ کیا اور اس کے اوپر کامیابی حاصل کی۔ حدیبیہ کے ‘‘دوسرے دن‘‘ تو مقابلہ کی نوبت ہی نہیں آئی۔ دشمن نے بلا مقابلہ شکست مان کر اپنے ہتھیار رکھ دیئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page