کامیابی کیسے
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۶۰
کامیابی کیسے
فروری ۱۹۹۲ میں دہلی میں بڑے پیمانے پر کتابوں کی نمائش (بک فیئر) لگائی گئی۔ ضروری کو میں بھی اس کو دیکھنے کے لیے گیا۔ مختلف اسٹال دیکھتے ہوئے ایک جگہ پہنچا تو اس کے بورڈ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ بورڈ کے الفاظ تھے : تھنک انکارپوریٹڈ (Think Incorporated) یہ اس بک فیئر میں ایک انوکھا اسٹال تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو سوچنے کا آرٹ بتایا جائے ۔ کیوں کہ غلط سوچ آدمی کو ناکامی کی طرف لے جاتی ہے اور صحیح سوچ کامیابی کی طرف۔ یہاں مسٹر یرمود کمار برترابی ایک خوب صورت چھپی ہوئی انگریزی کتاب تھی۔ اس کا نام مینجمنٹ تھاٹس (Management Thoughts) تھا۔ اس کے ۲۱۵ صفحات ہیں۔ اور اس میں ۱۴۰ مفید اقوال جمع کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک قول یہ تھا کہ ہمارا ذہنی رویہ ہماری بلندی کا تعین کرتا ہے : Our attitude determines our altitude. اسی طرح اس اسٹال پر کئی تعمیری کہتے تھے۔ ایک کتب میں اوپر ماچس کی ایک تیلی دکھائی گئی تھی۔ اس کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ ماچس کی تیلی کا ایک سر ہوتا ہے مگر اس میں دماغ نہیں ہوتا۔ اس لیے جب . بھی کوئی رگڑ ہوتی ہے وہ فوراً جل اٹھتی ہے۔ آئیے ہم ماچس کی ایک چھوٹی تیلی سے سبق لیں جسم اور آپ سر رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ دماغ بھی ۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اشتعال پر بھڑک نہ اٹھیں : A match-stick has a head, but it does not have a brain. Therefore, whenever there is a friction, it flares up immediately. Let us learn from this humble match-stick. You and we have heads as well as brains. Therefore, let us not react on impulse. ایک انسان وہ ہے جو بھڑکنے والی بات پر بھڑک اٹھتا ہے۔ وہ فوری جذبہ کے تحت عمل کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ ایسا آدمی ہمیشہ ناکام رہے گا۔ دوسرا انسان وہ ہے جو بھڑکنے والی بات ہو تب بھی نہیں بھڑکتا۔ وہ ٹھنڈے دماغ سے سوچتا ہے، پھر اپنا عمل کرتا ہے۔ ایسا آدمی ہمیشہ کامیاب رہے گا۔ دوسرا انسان انسان ہے اور پہلا صرف ماچس کی ایک تیلی ۔
5 انسانی اپریل ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues