Al-Risala · January 1992 · page 17

بیس سال بعد

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۷

اس دنیا میں ہر کامیابی لمبی جدوجہد کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ آدمی پہلے کم پر راضی ہوتا ہے، اس کے بعد وہ زیادہ تک پہنچتا ہے۔

نیل آرم ااسٹرانگ پہلے شخص ہیں جنہوں نے چاند کا سفر کیا۔ ۲۱ جولائی ۱۹۶۹ کو انھوں نے ایگل نامی چاند گاڑی سے اتر کر چاند کی سطح پر اپنا قدم رکھا۔ اس وقت زمین اور چاند کے درمیان براہِ راست مواصلاتی ربط و ٹائم تھا۔ چاند پر اترنے کے بعد انھوں نے زمین والوں کو جو پہلا پیغام دیا وہ یہ تھا کہ ایک شخص کے اعتبار سے یہ ایک چھوٹا قدم ہے، مگر انسانیت کے لئے یہ ایک عظیم چھلانگ ہے:

That's one small step for man, but one giant leap for mankind. آرم سٹرانگ کا مطلب یہ تھا کہ میرا اس وقت چاند پر اترنا بظاہر صرف ایک شخص کا چاند پر اترنا ہے۔ مگر وہ ایک نئے کائناتی دور کا آغاز ہے۔ ایک شخص کے بحفاظت چاند پر اترنے سے یہ ثابت ہو گیا کہ انسان کے لئے چاند کا سفر ممکن ہے۔ یہ دریافت آئندہ آگے بڑھے گی۔ یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب کہ عام لوگ ایک سیارہ سے دوسرے سیارہ تک اسی طرح سفر کرنے لگیں جس طرح وہ موجودہ زمین کے اوپر کرتے ہیں۔

ہر بڑا کام موجودہ دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے۔ ابتداءً ایک فرد یا چند افراد قربانی دے کر ایک دریافت تک پہنچتے ہیں۔ اس طرح وہ انسانی سفر کے لئے ایک نیا راستہ کھولتے ہیں۔ یہ ابتدائی کام بلاشبہ انتہائی مشکل ہے۔ وہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے کھسکانے کے ہم معنی ہے۔ مگر جب یہ ابتدائی کام ہو جاتا ہے تو اس کے بعد سارا معاملہ آسان ہو جاتا ہے۔ اب ایک ایسا کشادہ راستہ لوگوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ انسانی قافلے بڑی تعداد میں اس پر سفر کر سکیں۔

کسان جب زمین میں ایک بیج ڈالتا ہے تو وہ گویا زراعت کی طرف ایک "چھوٹا قدم" ہوتا ہے تا ہم اس چھوٹے قدم کے ساتھ ہی کسان کے زرعی سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ سفر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے کہ اس کے کھیت میں ایک پوری فصل کھڑی ہوئی نظر آئے۔ یہی طریقہ تمام انسانی معاملات کے لئے درست ہے، خواہ وہ زراعت اور باغبانی کا معاملہ ہو یا اور کوئی معاملہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page