Far-reaching steps to end communalism.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۲۸
جائے۔ تہواروں کو مشترک طور پر منانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ وغیرہ اس طرح قومی یک جہتی یا نیشنل انٹیگریشن کی کوششوں پر اب ۳۰ سال گزر چکے ہیں۔ مگر اب تک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس مدت میں قومی کشیدگی اور قومی اختلافات اس سے بھی زیادہ ہو گئے جو ۳۰ سال پہلے ہمارے ملک میں پائے جاتے تھے۔
میں نے اس موضوع پر کافی غور کیا ہے اور اس معاملہ میں دوسرے ملکوں کے حالات کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ آخر کار میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں قومی یک جہتی نہ ہونے کا جو اصل سبب ہے اس کو دور کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ملک کے اندر قومی جہتی کی فضا پیدا نہیں ہوسکتی۔ اور وہ سبب ہے شعور کی کمی۔
اس صورت حال کی اصلاح کے لئے عام طور پر جو تجویزیں پیش کی جاتی ہیں وہ تقریباً سب کی سب سسٹم یا نظام سے تعلق رکھتی ہیں۔ مگر اس طرح کی سماجی خرابیاں سسٹم کے بدلنے سے درست نہیں ہوتیں ۔ ان خرابیوں کا تعلق تمام تر افراد سے ہے۔ یہ دراصل افراد ہیں جو سسٹم کو چلاتے ہیں۔ اس لئے سسٹم کو درست کرنے کے لئے افراد کو درست کرنا ہوگا۔
کسی سماج کا درست ہونا تمام تر اس پر منحصر ہے کہ اس کے افراد کا مزاج درست ہو۔ مثال کے طور پر جاپان کے افراد کا مزاج یہ ہے کہ ان کے اوپر کوئی سردار مقرر کیا جائے تو وہ فوراً اس کی ماتحتی کو قبول کر لیتے ہیں۔ اس لئے جاپان کے سماج میں اتحاد ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ملک کے افراد کا مزاج یہ ہے کہ وہ کسی کی ماتحتی کو قبول نہیں کرتے ، اس لئے ہمارے ملک کے سماج میں اتحاد نہیں۔
میں نے اس سلسلہ میں جاپان کی تاریخ کا کافی مطالعہ کیا۔ میں نے پایا کہ جاپان میں یہ مزاج تعلیم کے ذریعہ آیا۔ جاپان میں ہر شخص تعلیم یافتہ ہے۔ مزید یہ کہ اسکول کی سطح پر ان کے یہاں تعلیم کا نہایت اعلیٰ انتظام ہے۔ اس طرح جاپان کا ہر شخص نہ صرف تعلیم یافتہ ہے بلکہ وہ شعوری حیثیت سے بیدار ہے اور اپنے اندر تعمیری ذہن رکھتا ہے۔
اس مطالعہ کے بعد ، نیز دوسرے تاریخی پہلوؤں کا مطالعہ کرنے کے بعد میری قطعی رائے ہے کہ ہندوستان کے سماجی جھگڑوں کا واحد حل یہ ہے کہ قوم کو صد فی صد تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ قوم
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues