ضروری دعوتی پروگرام
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۳۳
کے امور کو دعوت کا عنوان دینا دعوت کے نفی کرنا ہے۔ ان مسائل کا حقیقی حل یہ نہیں ہے کہ ان کو دعوت کی فہرست میں شامل کر دیا جائے۔ اس کے بجائے ہم کو یہ یقین و اعتماد پیدا کرنا ہوگا کہ اگر ہم دعوت کا کام انجام دے دیں تو اس کے بعد ہمارے مسائل بھی لازمی طور پر حل ہو جائیں گے۔ مسلم ملکوں میں قانونِ اسلامی کے نفاذ یا غیر اسلامی حکمرانوں کے اخراج کے نام پر اسلامی جماعتوں اور قائم شدہ حکومت کے درمیان جو نزاع جاری ہے اس کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں اسلامی تحریک غیر ضروری طور پر مسلم حکمرانوں کی حریف بن گئی ہے اور مسلم حکومتوں کا وہ تعاون اسلامی دعوت کے عمل کے لئے نہیں مل رہا ہے جو معتدل حالات میں ملنا یقینی تھا۔ مسلم ملکوں کے لئے صحیح اسلامی طریق کار یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے لکن مواقع کو دعوتی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔
ضروری دعوتی پروگرام
۱ قرآن و حدیث اور سیرت کے ترجمے تمام زبانوں میں شائع کر کے عالمی سطح پر پھیلانا۔ یہ ترجمہ صحیح اور معیاری زبان میں ہوں۔
۲ جدید عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر ہر زبان میں تیار کرنا اور ان کو وسیع پیمانہ پر پھیلانا۔ اس لٹریچر کو مثبت اور موضوعی انداز میں ہونا چاہئے۔
۳ ایسے اجتماعات منعقد کرنا جن میں غیر مسلموں کو بھی شریک کیا گیا ہو۔ ان اجتماعات میں صرف دعوتی کلام کیا جائے۔ اقوامِ عالم کی عداوتوں اور سازشوں پر شکایات و احتجاج سے آخری حد تک پرہیز کیا جائے۔
۴ ایسے ادارے کا قیام جہاں مسلم نوجوانوں کو دعوتی انداز میں تربیت دی جائے اور ان کو داعی کی حیثیت سے زندہ رہنے کے لئے تیار کیا جائے۔
۵ دعوتی میدان میں کام کرنے والوں کا سالانہ یا اس سے کم مدت میں اجتماع کیا جائے تاکہ ایک کے مشورہ اور تجربہ سے دوسرے کو فائدہ پہنچ سکے۔
۶ مسلمانوں میں دعوتی ذہن اور تعمیری طرز فکر پیدا کرنے کے لئے مستقل جرائد مختلف زبانوں میں جاری کرنا۔ ان جرائد کو مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو ہر قسم کی غیر دعوتی مباحث سے یکسر پاک رکھا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues