سفر نامه امریکہ - ۵
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۳۵
میں ایک طرف کھڑا ہوا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس میں مختلف ملکوں اور مختلف قوموں کے مرد اور عورت شامل تھے۔ اچانک ایک شخص نے میری طرف براہ کر کہا: السلام علیکم۔ یہ محمد جاوید الہ آبادی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے بھی آج یہاں آکر امریکہ کی شہریت لی ہے۔ میری مسلمان صورت دیکھ کر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے تھے۔ انھوں نے سامنے کی بینچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس سٹی زن شپ میں کیا دھر اہے ، اصلی سٹی زن شپ تو مرنے کے بعد والی ہے۔
ان کا یہ جملہ سن کر مجھ پر عجیب تاثر ہوا ۔ میں نے سوچا کہ امریکہ کی شہریت لینے کے لئے لوگ کہاں کہاں سے بھاگے چلے آرہے ہیں۔ مگر جنت کا شہری بننے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ جنت کا شہری بنانے کی کھڑکیاں امید واروں کی قطار سے خالی ہیں۔
یہاں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کا اقتصادی نظام تو عربوں کی دولت پر چل رہا ہے۔ عربوں کی جو دولت یہاں کے بینکوں میں جمع ہے اور یہاں کی مختلف کمپنیوں میں عربوں کا جو سر مایہ لگا ہوا ہے ، اس کو اگر وہ نکال لیں تو امریکہ دیوالیہ ہو جائے گا۔
دوسری طرف میری ملاقات ایک ہندو انجینئر سڑمن سے ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ امریکہ کو تو ہندو ماہرین چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی سائنس دانوں کی بہت بڑی تعداد در اصل ہندوستانی ہے۔ اور یہی امریکہ کی بڑائی کا راز ہے۔ وہ ہر ملک کے بہترین افراد کو اپنی طرف کھینچ کر لاتا ہے اور ان کو اپنے اندر شامل کر لیتا ہے :
A large number of American scientists are in fact Indian. And that is part of America's greatness. It attracts, absorbs and assimilates the best from every land. یہ مشابہت بھی کیسی عجیب ہے کہ ہندو یا مسلمان کوئی بھی خود " اپنے ملک " کو ترقی نہ دے سکا، البتہ دونوں اس بات پر فخر کر رہے ہیں کہ وہی ہیں جنھوں نے " دوسرے ملک " کو اعلی ترقی کے درجہ تک پہنچایا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ملک دونوں کے نزدیک قابل مذمت سامراجی ملک ہے۔ 35 | الرسائل اپریل ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues