Al-Risala · May 1992 · page 4

دین اسلام

الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۴

دین اسلام

اسلام کائنات کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب کائنات کو پیدا کیا تو اسی وقت یہ مقدر کر دیا کہ کائنات کا دین اسلام ہوگا۔ وہ کامل طور پر اللہ کی اطاعت اور سپردگی کے راستہ پر چلے گی۔ وہ ادنیٰ درجہ میں بھی اس کی مرضی سے انحراف نہیں کرے گی۔

اس کے بعد جب اللہ نے انسان کو پیدا کر کے زمین پر بسایا تو اس کو بھی یہی حکم دیا کہ وہ پوری طرح اللہ کا فرماں بردار رہ کر دنیا میں زندگی گزارے۔ اللہ کی کامل اطاعت ہی کائنات کا مذہب ہے اور اللہ کی کامل اطاعت ہی انسان کا مذہب بھی :

Submission to God is the only religion for both:

Man and the Universe.

البتہ کائنات اور انسان میں ایک فرق ہے۔ کائنات پوری طرح مسخر ہے۔ وہ مجبور ہے کہ وہی کرے جس کا حکم اللہ نے اس کو دے رکھا ہے۔ وہ اللہ کے حکم سے بال برابر بھی تجاوز نہیں کر سکتی مگر انسان ایک با اختیار مخلوق ہے۔ انسان کو وہی اطاعت اختیارانہ طور پر کرنا ہے جس کو بقیہ کائنات مجبوراً نہ طور پر کر رہی ہے۔

کائنات اپنی ساری وسعتوں کے باوجود ایک وحدت ہے۔ پوری کائنات ایک نظام وحدت کے تحت عمل کرتی ہے۔ اس طرح کائنات اس بات کا مظاہرہ کر رہی ہے کہ وہ ایک خدا کو ماننے والی ہے۔ یہی چیز انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے ایک خدا کو مان لے، وہ اپنی فکر کو پوری طرح توحید کی فکر میں ڈھال لے۔

شہد کی مکھی سے لے کر شمسی نظام تک کائنات کا ہر جز ر نہایت با معنی انداز میں اپنا عمل کر رہا ہے۔ جیسے کہ وہ کسی بر تر طاقت سے اپنے لیے احکام وصول کر رہا ہو۔ اسی کا نام وحی ہے۔ انسان کی طرف بھی اللہ نے پیغمبروں کے ذریعہ وحی کی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس وحی کو اپنا رہنما بنائے، وہ اپنی زندگی کے تمام اعمال اسی وحی کی روشنی میں انجام دے۔

پوری کائنات حالت سجدہ میں ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ درخت اور تمام بلندیاں اپنے سایہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1992 All issues

Printed page