Al-Risala · May 1992 · page 7

اسلام کی طاقت

الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۷

تاشقند کے ریلیجس بورڈ کو دے رہا ہے تاکہ امام اسماعیل البخاری کے مزار کے ساتھ ایک بڑا اسلامک سنٹر قائم کیا جاسکے۔ (صفحہ ۲۱)

سعودیہ کا اسلامک بینک ایک منصوبہ کو تین لاکھ ڈالر (300,000 $) کی مدد دے رہا ہے تاکہ دوشنبے (Dushanbe) میں ایک بڑا دینی مدرسہ قائم کیا جاسکے۔ اس طرح دوسرے مسلم ممالک بھی اسی علاقہ میں اسلام کے فروغ کے لیے مختلف طریقہ سے اپنا تعاون دے رہے ہیں۔

نیوز ویک نے مزید لکھا ہے کہ دو سال پہلے تاجکستان میں صرف ۱۸ مسجدیں تھیں۔ آج، مسلم ذمہ داروں کے بیان کے مطابق، یہاں ۲۵۰۰ سے زیادہ مسجدیں ہیں :

اشتراکی نظام کے تحت آنے سے پہلے یہاں جو مسلمان تھے، ان میں سے بیشتر اس مدت میں وفات پاچکے۔ اب اس علاقہ میں جو مسلم نسلیں ہیں وہ زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو اشتراکی نظام کے دور میں پیدا ہوئے جنہوں نے اشتراکی ماحول میں پرورش پائی اور اشتراکی اداروں میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ اس کے باوجود ان کے درمیان اسلام باقی رہا اور آزادی پاتے ہی از سر نو دوبارہ زندہ ہوگیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی حکومت خواہ وہ کتنی ہی زیادہ طاقت ور ہو، وہ اس پر قادر نہیں ہو سکتی کہ مسلمانوں کے اندر سے ان کے اسلامی تشخص کو مٹا دے۔ قرآن کے مطابق، خدا کا دین اب خشیت انسانی کے دور سے نکل کر خشیت ربانی کے دور میں داخل ہو چکا ہے (المائدہ ۳) اب اسلام اتنا مستحکم ہو چکا ہے کہ کوئی بھی طاقت اس کو نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔ اب اندیشہ تمام تر خدا کی طرف سے ہے نہ کہ انسان کی طرف سے۔

خدا کی طرف سے اسلام کو کامل اور مستحکم دین قرار دیا جانا اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی بھی طاقت اسلام کو مستقل نوعیت کا نقصان نہ پہنچا سکے۔ دوسروں کی طرف سے اسلام اور اہل اسلام کو وقتی قسم کا ضرر پہنچ سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی حالت دیر تک باقی رہنے والی نہیں۔ جب بھی ایسا ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حالات میں ایسی تبدیلی لائی جائے گی کہ مخالفین اسلام کے تمام منصوبے ڈھ جائیں۔ اسلام کا سورج وقتی بدلی سے نکل کر دوبارہ آفاق میں چمکنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1992 All issues

Printed page