کامل مذہب
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۹
اس کے بعد قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان مطمئن ہونے کے بجائے حیرانی میں پڑ جاتا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ایسی ڈیزائن کیسے یہاں موجود ہے جس کا کوئی ڈیزائنر نہیں۔ ایک ایسا پلان کیسے یہاں پایا جاتا ہے جس کا کوئی پلانر نہیں۔
سائنس کی دریافت کردہ دنیا کی یہی کمی ہے جس کی بنا پر البرٹ آئن سٹائن سے لے کر ہاکنگ (Stephen Hawking) تک تمام سوچنے والے دماغ یہ محسوس کرتے رہے ہیں کہ کائنات میں بہت سے ایسے پہلو ہیں جن کو سمجھنا انتہائی حد تک دشوار ہے :
There are aspects in the universe which are extremely difficult to understand اس فکری مشکل کو شروڈنگر نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے کہ فطرت کے بارہ میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے :
The most incomprehensible thing about nature is that it is comprehensible سائنس کے بعد دوسری چیز مذہب ہے۔ مگر قوموں کے پاس جو مذہب ہے وہ (اسلام کے سوا) سب کا سب محرف ہے۔ اس لیے وہ انسانی فطرت کو اپیل نہیں کرتا۔ سائنس اس بنا پر انسان کو فکری بنیاد نہ دے سکی کہ وہ نامکمل تھی۔ اور اس کا مذہب اس بنا پر اس کو فکری بنیاد دینے میں ناکام ہے کہ وہ محرف ہے۔ یہاں انسانیت کی امید صرف ایک ہے ، اور وہ اسلام ہے۔ آج اسلام ہی ایسا نظامِ فکر ہے جو انسان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ وہ ایسا مذہب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ، وہ ایسا علم ہے جو سچی سائنس کے تمام پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اسلام کا ٹکراؤ نہ انسانی فطرت سے ہے اور نہ حقیقی علم سے۔
آج کا انسان محرف مذہب اور نامکمل سائنس کی دو طرفہ مشکل کے درمیان جی رہا ہے۔ ان حالات میں انسان کی مشکل کا جواب صرف ایک ہے ، اور وہ اسلام ہے۔ اگر اسلام کو وقت کی زبان اور وقت کے اسلوب میں پیش کر دیا جائے تو آج کا انسان دوڑ کر اس کو لے لے گا ، کیوں کہ اس کی روح آج سب سے زیادہ اسی کی تلاش میں ہے۔