Al-Risala · May 1992 · page 32

مطلوبِ فطرت

الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲

مطلوبِ فطرت

ایک فارسی شاعر کا شعر ہے کہ صحرا کے تمام ہرن اپنا سر اپنے ہاتھ پر لیے پھرتے ہیں کہ تم کسی دن آؤ اور ان کا شکار کرو :

ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ برکف بامیدِ آں کہ روزے بہ شکار خواہی آمد شاعر نے یہ شعر جس معنی میں بھی کہا ہو ، مگر ایک معنی میں وہ نہایت صحیح ہے ۔ اور وہ انسان کی فطری طلب ہے۔ ہر انسان کے اندر فطری طور پر یہ طلب موجود ہے کہ وہ اپنے خالق کو پائے اور اس کا پرستار بن جائے ۔ یہ طلب ہر آدمی کے اندر اس طرح پیوست ہے کہ وہ اس کو نکال نہیں سکتا ۔ تمام مذاہب جن کو سچے پیغمبروں نے پیش کیا ، وہ اسی مطلوبِ خدا کا تعارف تھے۔ مگر پہلے مذاہب میں تبدیلی اور آمیزش کی وجہ سے ان کا خالص پن باقی نہ رہا ۔ اب صرف اسلام ہے جس میں خدا کا صحیح اور بے آمیز تعارف موجود ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آج تمام دنیا کے انسان اسلام کی تلاش میں ہیں ۔

انسان کے اندر خدا کی پیدائشی طلب ہے ، اور اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں خدا کا تعارف اور اس کی مرضی کسی ملاوٹ کے بغیر موجود ہے ۔ ان دونوں باتوں کو ملائیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے پاس سب سے قیمتی چیز اسلام ہے۔

اسلام گویا فاتحِ عالم ہے۔ اسلام فاتحِ انسانیت ہے۔ اسلام کی صورت میں اہل اسلام کے پاس ایک ایسی چیز موجود ہے جو عصائے موسیٰ سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ وہ اس کے ذریعہ ہر آدمی کے دل کو مسخر کر سکتے ہیں ۔ خواہ وہ کسی بھی ملک کا رہنے والا ہو ، اور خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو۔

اس دنیا میں ہر انسان آہوئے فطرت ہے۔ ہر انسان اس سچائی کی تلاش میں ہے جس کے بغیر اس کی شخصیت نا تمام ہے۔ اسلام اسی ابدی سچائی کا مستند ترین ایڈیشن ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان گویا اس انتظار میں ہے کہ اسلام کے حاملین آئیں اور اس کے سامنے خدا کے سچے دین کو پیش کریں ، اور اس کی روح اس کو عین اپنا مطلوب سمجھ کر اسے اختیار کرلے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1992 All issues

Printed page