شیر کا طریقہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۵
خداوندِ عالم کا ایک ہی قانون ہے جو انسانوں سے بھی مطلوب ہے اور غیر انسانوں سے بھی۔ اور وہ ہے ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔ گلاب کے پھولوں کا ایک باغ ہے۔ آپ اس میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کی خوبصورت پتیاں اور اس کے خوشبو دار پھول آپ کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے کانٹے آپ کو لگ جاتے ہیں۔ آپ کا ہاتھ زخمی ہو جاتا ہے یا آپ کے کپڑے کانٹوں میں پھنس جاتے ہیں۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ گلاب کے باغ میں کانٹوں کی موجودگی کو آپ باغبان کا فعل قرار دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ یہ جانیں کہ یہ کانٹے قدرت کے قانون کا نتیجہ ہیں۔ اگر آپ کانٹوں کی موجودگی کا سبب باغبان کو سمجھیں تو آپ کے اندر نفرت اور شکایت کا ذہن ابھرے گا، اور اگر آپ اس کو قانون قدرت کا نتیجہ سمجھیں تو آپ کانٹوں کی موجودگی کو بطورِ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے یہ کوشش کریں گے کہ اس سے اعراض کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کریں۔ ایک تشخیص سے احتجاج کا ذہن ابھرے گا اور دوسری تشخیص سے تدبیر تلاش کرنے کا۔
ہندوستان میں اکثریتی فرقہ کی طرف سے جو قابلِ شکایت باتیں پیش آتی ہیں ، ان کو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے انسان کا پیدا کردہ مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ احتجاج کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مگر یہ سراسر عبث ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے گلاب کے کانٹوں کے خلاف شور و غل کیا جائے ۔ گلاب کے درخت میں کانٹے بہر حال رہیں گے ، اسی طرح انسانی سماج میں ایک سے دوسرے کو تلخ باتیں بھی ضرور پیش آئیں گی۔
ان تلخ اور قابلِ شکایت باتوں کا حل صرف ایک ہے ۔ ان سے اعراض کرنا، ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے سفر حیات پر رواں دواں رہنا۔ اس قسم کے سماجی مسائل خود خدا کے تخلیقی منصوبہ کا حصہ ہیں ، اس لیے وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ البتہ ان کی موجودگی کو گوارا کر کے ہم اپنی زندگی کے سفر کو ضرور جاری رکھ سکتے ہیں۔
نادان آدمی ناموافق باتوں سے الجھتا ہے ، دانش مند آدمی ناموافق باتوں سے دامن بچاتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ یہی ایک لفظ میں ، اس دنیا میں ناکامی اور کامیابی کا راز ہے۔ یہاں الجھنے کا انجام ناکامی ہے اور نظر انداز کرنے کا انجام کامیابی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues