دینِ فطرت
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۴۵
موجودہ زمانہ میں جرم کے موضوع پر گہرا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مطالعہ سے جو حقیقتیں سامنے آئی ہیں وہ واضح طور پر اسلام کے نظریہ کی تصدیق کرتی ہیں۔
ایک اطالوی ڈاکٹر لومبروسو (Cesare Lombroso) نے انیسویں صدی میں کچھ لوگوں کے سروں کی پیمائش کی۔ اس کے بعد اس نے دعویٰ کیا کہ غیر مجرم لوگوں کے مقابلہ میں مجرم لوگوں کے دماغ (Brain) جسامت میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر جو شخص مجرم ہوتا ہے وہ پیدائشی طور پر مجرم ہوتا ہے۔ مگر اب یہ نظریہ نہیں۔ آج یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ تربیت نہ کہ فطرت وہ چیز ہے جو کسی کو مجرم بناتی ہے :
Nurture, not nature, is responsible for criminal behaviour. حال میں امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے جرم اور فطرت انسانی : Crime and Human Nature by Prof. James Q. Wilson and Prof. Richard Herrnstein Published by Simon and Schuster, New York اس کتاب میں جرم اور مجرم کا مطالعہ کرتے ہوئے جو باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مجرم فوری مقصد کو سامنے رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے اس ذہن کی وجہ سے ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ مستقبل کے بارہ میں سوچیں یا باقاعدہ منصوبہ بنائیں : Criminals tend to be now-oriented personalities, which make planning or even thinking about the future difficult. جرم کی اس نفسیات پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اسلام عین مطابق حقیقت نظریہ ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں جدید تہذیب کا نظریہ سراسر حقیقت کے خلاف ہے۔ اسلام آخرت رخی ذہن بناتا ہے اور جدید تہذیب دنیا رخی ذہن بناتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی ذہن کی ساری توجہ "تب" پر ہوتی ہے اور جدید تہذیب کی ساری توجہ "اب" پر۔ اس طرح گویا اسلامی فکر مجرمانہ نفسیات کی جڑ کو کاٹ رہا ہے، جب کہ جدید تہذیب کا مادی ذہن مجرمانہ نفسیات کی پرورش کرنے والا ہے۔